المبشرات

by Other Authors

Page 47 of 309

المبشرات — Page 47

والی ہر قسم کی وحی اعلیٰ و افضل ہونے کے علاوہ ایک مخصوص رنگ رکھتی تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود محبت الہی کے درجات ثلاثہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلۂ محبت انہی کا انسانی محبت کے مستعد فیصلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزاء اور تمام رگ وریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معا اُس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اُٹھتا ہے اور اُس کی گوئیں اور شعلے اردگرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریخی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر ایک غبار سے خالی ہے اور اُس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذو الافق الا علی بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلتی ہے اور رائی مار اسی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات سے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا