المبشرات — Page 285
٣٠١ جب کہتے یہ رویا دیکھی اس وقت قریبا دو بجے رات کا وقت تھا اس دن میری بیوی مریم صدیقہ کی باری تھی اور وہ میرے پاس ہی دوسری جا نہ پائی پر سوئی ہوئی تھیں جیسے انہیں جگایا اور کہا جلدی سے ایک خط لکھو بچنا نچہ کینے اسی وقت چودھری صاحب کو خط لکھوایا اور تحریر کیا کہ وہ کچھ صدقہ دیدیں فورا ابھی اور آتے ہوئے بھی۔اور اس مضمون کی ایک تاریھی دے دی۔بیٹے جب یہ کہ کیا دیکھی تو چودھری صاحب امریکہ پہنچ چکے تھے اور سینے رویا میں یہ نظارہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب مشرق سے مغرب کو جا رہے ہیں اگر وہ امریکہ سے پاکستان آ رہے ہوتے تو یہ سفر مشرق سے مغرب کو نہ ہوتا بلکہ مغرب سے مشرق کو ہوگا۔پھر مینے رویا میں یہ دیکھا تھا کہ چودھری صاحب خود ہی اس حاجو شہ کی خیر دے رہے ہیں اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اگر اس حادثہ میں ان کی جان کا نقصان ہے تو وہ اس کی خبر کیسے دے رہے ہیں۔بہر حال مینے اس خواب کی تین تعبیر میں کہیں اول یہ کہ کوئی حادثہ سخت مہلک چودھری صاحب کو پیش آنے والا ہے اور خدا تعالے انہیں اس سے بچالے گا کیونکہ وہ خود اس حادثہ سے متعلق تھی خبر دے سکتے ہیں جب وہ محفوظ ہوں۔دوسر سے لینے یہ تعبیر کی کہ اس دن ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل سفر پر روانہ ہو رہے تھے شائدا نہیں کوئی حادثہ پیش آجائے بیٹے ملک اور محمد کے الفاظ دیکھے تھے بیچ میں ایک لفظ اور بھی تھا جو پڑھا نہیں گیا۔مینے خیال کیا کہ شائد اس سے ملک غلام محمد صاحب ہی مراد ہوں کیونکہ ان کے نام سے پہلے بھی ملک اور آخر میں محمد کا لفظ آتا ہے اور وہ چودھری صاحب کے دوست بھی ہیں اور دوست کا صدمہ خود انسان کا اپنا صدمہ کہلاتا ہے چنانچہ پینے صبح نہیں نار دے دی چونکہ وہ احمدی نہیں ہے اس لئے بنے یہ نہ لکھا کہ سینے رویا دیکھی ہے