المبشرات

by Other Authors

Page 284 of 309

المبشرات — Page 284

اس میں بہت سے کاغذ نکلتے آتے تھے لیکن اصل بات جس کی خبر دی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی آخر کا ر لفافہ میں صرف ایک دو کاغذ رہ گئے لیکن اصل کا خیر کا پتہ نہ لگا۔میاں بشیر احمد صاحب نے کہا پتہ نہیں چودھری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے وہ ایک اہم شیر لکھتے ہیں لیکن اچھی طرح بیان نہیں کرتے لینے کہا گھبراہٹ میں ایسا ہو ہی جاتا ہے اسپر لفافہ میں جو دو کاغذ باقی رہ گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ کو بینے باہر کھینچا تو وہ ایک فہرست تھی لیکن اصل واقعہ کا امن سے پتہ نہیں لگتا تھا اس فہرست میں ایک نام سے پہلے ملک لکھا تھا اور آخریں محمد لکھا تھا درمیانی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا اس سے اتنا تو پتہ لگتا تھا واقع میں کوئی اہم خبر ہے لیکن اصل واقعہ کا پتہ نہیں لگتا تھا پھر لفافہ میں سے ایک اور شفاف کاغذ نکلا جو hacing naser تھا میں اسے دیکھنے لگا اور کمینے کہا یہ خبر ہے جو چودھری صاحب نے ہم تک پہنچانی چاہی ہے مگر بیچائے کوئی واقعہ لکھنے کے اس کا غذ پر ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ہوائی جہاز ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف جا رہا ہے آگے جا کر وہ لکیر یکدم اریبوی صورت میں نیچے آجاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاز یکدم نیچے آگیا ہے اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہ کا ہے اور معا Crashed کا لفظ میرے سامنے آتا ہے تو معا سمندر میرے سامنے آجاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ نیچے کچھے جنہ بہرے ہیں مجھے نیچے کی طرف عملاً سمندر نظر آتا ہے اس میں ہلکی ہلکی لہریں ہیں میں خواب میں کہتا ہوں خدا کرے کہ نہ معلوم چودھری صاحب کو تیرنا آتا ہے خدا کرے اس حاولہ کی غیر معلوم کر کے سی حکومت نے ہوائی جہاز یا کشتیاں بچانے کے لئے بھیج دی ہوں تاکہ چودھری صاحب اور دوسرے لوگ بچ جائیں