المبشرات

by Other Authors

Page 273 of 309

المبشرات — Page 273

٢٨٩ قائد اعظم کی دردناک وفات اور سقوط حید آباد کے متعلق رویا فرمایا : " گیارہ اور بارہ ستمبر شہداء کی درمیانی رات مینے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں جو نہ قادیان معلوم ہوتی ہے اور نہ لاہور کا موجودہ مکان بلکہ کوئی نئی جگہ معلوم ہوتی ہے ایک کھلا مکان ہے جس کے آگے وسیع صحن معلوم ہوتا ہے میں اس کے صحن میں کھڑا کچھ لوگوں سے باتیں کر رہا ہوں باتوں کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہے کہ قریب زمانہ میں مسلمانوں پر ایک بڑی آفت آئی ہے اور عنقریب کچھ اور حوادث ظاہر ہونے والے ہیں جو پہلی مصیبت سے بھی زیادہ سخت ہونگے اور مسلمانوں کی آنکھوں کے آگے قیامت کا نظارہ آ جائے گا یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دُور افق میں مجھے ایک چیز اڑتی ہوئی نظر آئی یہ چیز ابوالہول کی شکل کی سی تھی اور اسی کی طرح عظیم الجسہ معلوم ہوتی تھی۔ابوالہول کی طرح اس کی بنیاد بہت چوڑی تھی اور اوپر آ کے اس کا جسم نسبتاً چھوٹا ہو جاتا تھا سینے دیکھا کہ اوپر کے حصہ میں بجائے ایک سرکے اس کے دوسر لگے ہوئے ہیں۔ایک سر ایک کو نہ پر ہے اور دوسرا سر دوسرے کو نہ پر اور درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی اس چیز کی جسامت اور مہیبت کو دیکھ کر لکھنے قیاس کیا کہ یہی وہ بلا ہے جس کے متعلق خبر پائی جاتی ہے اور مہینے ان لوگوں سے جن سے میں باتیں کر رہا تھا کہا دیکھو وہ چیز آگئی ہے میرے دیکھتے دیکھتے وہ بلا عظیم اڑتی ہوئی ہمارے پاس سے آگے کی طرف گزرگئی اور تمام علاقہ کے لوگوں میں نشور پڑ گیا کہ اب کیا ہو گا وہ قیامت خیز تو آگئی۔