المبشرات — Page 262
(مرتب) اس رؤیا کے بیان کے وقت متحدہ پنجاب میں بالکل امن تھا اور کسی جگہ اپنی کے آثار نہ تھے لیکن اس کے بیان فرمانے کے صرف دو دن بعد خضر حیات وزارت نے استعفا دے دیا اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک شکل اختیار کرلی اور صوبہ کے طول و عرض میں فتنہ و فساد کی وسیع آگ پھیل گئی اور آتشزدگی کی واردات نے صوبہ بھر میں ایسی خوفناک تباہی اور بربادی مچائی کہ دوزخ کا سماں بندھ گیا۔بلوائیوں نے ہزاروں عمارتیں خاکستر کر دیں۔اور سینکڑوں جیتی جاگتی جانوں کو آگ کی نذر ہونا پڑا۔بچھوؤں کی اس مہیب جنگ کا حقیقی اندازہ تو وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے اسے بخشیم خود مشاہدہ کیا اور جو اس کا تصور کر کے آج بھی اشکبار ہو جاتے ہیں تاہم یہ بتانے کے لئے کہ خدا کی بات کس شان سے پوری ہوئی۔لاہور امرتسر اور گوڑ گاواں یعنی صرف تین شہروں کا نقشہ اخبارات سے پیش کرتا ہوں۔لاہور : لاہور کے متعلق ۱۲۱ جون کہو کی خبر ہے کہ : شام کے پانچ بجے شہر کے مضافات میں چالیس سے زائد جگہ آگ لگی ہوئی تھی سب سے زیادہ شدید آگ مزنگ میں لگی ہوئی ہے اس جگہ صرف ایک گلی میں آٹھ مکان جل رہے ہیں اور نصف درجن مزید مکانوں سے شعلے نکل رہے ہیں۔۔۔۔آگ کا سیاہ اور تاریک دھواں شہر کے زیادہ تر حصے پر چھایا ہوا ہے۔آگ پر قابو پانے کے لئے کارپوریشن فائر بریگیڈ کے علاوہ ملٹری کے دو فائر بریگیڈوں سے بھی امداد طلب کی گئی ہے رات کے آٹھ بجے مزنگ کوچہ ہواگراں اندرون شاہ عالمی گیٹ پیپل ویڑہ اندرون موچی گیٹ کٹڑہ پور بیاں بھاٹی گیٹ اور برانڈرتھ روڈ پر جملے ہوئے مکانوں سے دھوئیں کے بڑے بڑے بادل نکل رہے ہیں۔" روزنامه پرتاب " لاہور (۲۱ جون شده)