المبشرات — Page 166
16۔رہا ہوں کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی ٹو میں عیسائی لشکر کو دہائی چلی آتی ہیں اور سیمی لشکر شکست کھا رہا ہے اور وہ ہٹتے ہٹتے اس جگہ کے قریب آگیا ہے۔اور یہ لوگ اس بات کوئن کر دردانہ ے کی طرف اس لئے دوڑے تھے کہ تا دیکھیں کہ لڑائی کا کیا حال ہے جب کیسے یہ بات ان سے مشتی تو یکی دل میں کہتا ہوں کہ ان کو اس قدر گھبراہٹ ہے۔اگر ان کو معلوم ہو کہ میں خود ان کے اندر موجود ہوں تو یہ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے یہ خیال کر کے میں بھی دروازے کی طرف اسی طرح بڑھا جس طرح وہ لوگ دیکھنے کے لئے گئے تھے اور وہاں سے خاموشی سے سرک کی طرف مکمل گیا۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اخبار الفضل مورخه ۲۴ تون ۲۳ شد و مت کا بم بیا (۲) (مرتب) جماعت احمدیہ کے مقابل عیسائی مغلوں کے پسپا ہونے کی یہ خبر آج سے چھتیس سال قبل کی ہے جبکہ بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کے صرف گفتی کے چندشن موجود تھے یا ابھی نئے نئے قائم ہوئے تھے اور غیر ملکی دنیا میں جمعیت احمدیہ کی کوئی آواز نہ تھی اس کے برعکس کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مشن پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور عیسائیت کے حلقہ اثر واقتدار میں ہر لحظہ اضافہ ہو رہا تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا دنیا کی تمام عیسائی حکومتیں پشت پناہ تھیں اور مسیحیت کی تبلیغ و اشاعت پر بے دریغ روپیہ صرف کیا جا رہا تھا تثلیث کی جنگ لڑنے والی ان عالمگیر سیمی افواج کے برعکس توحید کے پرستار ہر طرح بے دست و یا۔تھے۔اُن کی حکومتیں سسک رہی تھیں، اور ترکی میں پر پورے عالم اسلام کو ناز تھا خود اتحادیوں کے ہاتھوں حصے بخرے ہو چکا تھا اور مسلمانوں کی واحد تبلیغی جماعت جماعت احمدیہ کو اپنے ملک میں بھی کوئی خاص اہمیت حاصل نہ تھی