المبشرات — Page 147
۱۵۱ منہ میری طرف ہیں اور تینوں مجھ سے باتیں کر رہے ہیں اور بہت محبت سے میری باتیں سُن رہے ہیں اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں اور جس طرح گھر میں فراغت کے وقت ماں باپ اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہیں اسی طرح میں ان سے باتیں کرتا ہوں۔شاید اس کی تعبیر بھی مرحومہ کی وفات ہی تھی کہ الہی قانون کے مطابق ایک قسم کی ابوست یا مامتا جگہ خالی کرتی ہے۔تو دوسری قسم کی ابوت یا مامتا اس کی جگہ لے لیتی ہے۔والفضل ۲۲ مئی ۱۹۳۶ء حت کالم عند) (مرتب) خدائی باتیں بعض اوقات کئی رنگ ہیں پوری ہوتی اور از دریا د ایسان کا موجب بنتی ہیں یہی صورت اس خواب کی ہے۔چنانچہ حضرت کی مندرجہ رویا کی ایک تعبیر تو اوپر درج ہے اب اس کا ایک دوسرا پہلو اگلی سطور میں حضور ہی کے الفاظ میں پڑھئے۔میری بیماری کے موقعہ پر تو اللہ تعالیٰ نے (نہ) صرف ان کو اپنے بیٹا ہونے کو ثابت کرنیکا موقع دیا بلکہ میرے لئے فرشتہ رحمت بنا دیا وہ میری محبت میں پور ہے چل کر کراچی آئے اور میرے ساتھ چلنے اور میری صحت کا خیال رکھنے کے ارادہ سے آئے۔چنانچہ ان کی وجہ سے سفر بہت اچھی طرح کیا اور بہت سی باتوں میں آرام رہا۔آخر کوئی انسان پندرہ ہیں سال پہلے تین نوجوانوں کے متعلق اپنے پاس سے کس طرح ایسی خبر دے سکتا تھا۔دنیا کا کونسا ایسا مذھبی انسان ہے جس کے ساتھ محض مذہبی تعلق کی وجہ سے کسی شخص نے جو اتنی بڑی پوزیشن رکھتا ہو جو چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب رکھتے ہیں اس اخلاص کا ثبوت دیا ہو کیا یہ نشان نہیں ؟ انہ مخالف مولوی اور پیر گالیاں تو مجھے دیتے ہیں۔مگر کیا وہ اس قسم کے زیران اہ نہ کا لفظ متن سے سہوا رہ گیا ہے۔(مرتب)