المبشرات — Page 136
۱۴۰ خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جماعت کے کثیر حصہ کو اور ایسے کثیر حصہ کو کہ شاذ ہی کوئی رہ جائے اور ممکن ہے کہ کوئی بھی نہ رہے اس خطرناک وقت میں جبکہ بڑے بڑوں کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں محفوظ رکھے گا۔اور تقویٰ اور صلاحیت پر ہی چلائے گا گمراہی کے رستہ پر نہیں چلائی گا انشاء الله لیکچر " ملا نکتہ اللہ " فرموده دارد دسمبرت ساده طبع اول مطب (مرتب) ۱۹۲۰ء سے لے کر اس وقت تک جماعت کو متعد د ابتلاؤں آزمائیشوں اور فتنوں کی دہکتی ہوئی آگ بلکہ اُٹھتے ہوئے تیز شعلوں میں سے گذرنا پڑا ہے (جیسا کہ آئیندہ ابواب سے معلوم ہوگا) مگر خدا کی قدرت نمائی کا جلوہ دیکھئے کہ جماعت احمدیہ کا سالانہ مقدس مذھبی اجتماع ہر سال ایک نئی اور دلکش رونق اور بہار لانے کا موجب ہوتا ہے مثال کے طور پر ست شہداء کے جلسہ سال کو دیکھئے یہ جلسہ فتنہ کے خطرناک ایام میں آیا مگر خدا کے فضل سے شہداء کے مقابل اس سال زائرین جلسہ کی تعداد میں کم و بیش دس پندرہ ہزار نفوس کا اضافہ ہوا۔انتظامات جلسہ سالانہ کے مرکزی شعبہ کی رپورٹ کے مطابق جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی اس کے مقابل ۱۹۳۰ء میں جبکہ حضور نے اس اجتماع کے بارونق ہونے کے متعلق پیش گوئی فرمائی تھی بیرونی جمان تعداد میں صرف سات ہزار کے قریب تھے۔(ملاحظہ ہو الفضل سر جنوری 19 م ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صادر ہے کے انتقال کی خبر د اخبار الفضل میں شائع شدہ ایک کے پورٹ کا اقتباس) ور تاریخ صبح کے وقت جب حضرت خلیفہ اسی ڈاکٹرصاحب محمد اسماعیل خافضا