المحراب

by Other Authors

Page 158 of 207

المحراب — Page 158

مجھے حضرت نواب مید کہ بیگم صاحبہ کا یہ ارث او پہنچایا کہ عاقب ہماری خواتین کی جلسہ گاہ میں آکر اپنی کل والی نظم پڑھیں۔تیرے پاس ثاقب کے نوا ہیں یہ سب خدا کی امانتیں اُسی در پہ جاکے جھکا یوں یہیں بھی دل بھی نگاہ بھی اس رقعہ کو پڑھ کر مجھے اساس ہوا کہ میں نے نکل کی کچھ کہ دیا ہے اور مٹنے والوں مختصر لیکن بهترین تبصره نے اس نوحہ نما خیر مقد میٹے ، کوکین کانوں سے سنا ہے مگریہ مرحلہ میرے لئے کسی لئے کسی امتحان سے کم نہ تھا میں نے اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ناظر صاحب اس جلسہ سالانہ پر حکومت نے جلسہ گاہ کے ارد گر د خصوصی پولیس خاص طور محترم سے گزارش کی کہ نظم ٹیپ ہو چکی ہے۔آپ وہ ٹیپ، وہاں سمجھا دیں۔موصوف نے پر متعین کی تھی۔نظم پڑھنے کے بعد میں نے بے تابانہ معانقے کرنے والوں کے چہروں کو دیکھ کر محسوس کیا کہ جیسے میں نے اپنے دل ہی کی نہیں ان کے دل کی بات بھی کہی ہے۔یک عجیب و غریب واقعہ ہوا۔میں لسہ گاہ کی سٹیج کے پاس پہنچا تو ناظر صاب تو تعاون کیا۔لیکن چند منٹوں کے بعد جواب آیا جب ثاقب موجود ہے تو ٹیپ ، پر کیوں اکتفا کیا جائے۔جس کے بعد سرابی معذرت کی تمام روایتی ختم ہوگئیں پہنچا توحضرت نواب بزرگی امور عام چودھری ظہور احمد صاحب با قمه - طرف سے جا کر بتایا کہ ایک بیگم صاحبہ نور اللہ مرقدہ نے ان الفاظ میں نظم کا تعارف کرایا۔اب آپ مناقب زیر وی صاحب کی زبانی الٹ کی دلوں کو آنسوؤں سے دھو کر ان میں نئے امام کی محبت بھر دینے والی نظم سنیئے۔ہیں پی نہیں رات سے ڈھونڈ رہا ہے۔میں راب ڈھونٹ نے کا کیا فائدہ یہ نظم تو میں نے پڑھ لی۔اس با خبر کو نظم پڑھنے سے پہلے مجھے ڈھونڈ نا چاہیے تھا۔گر ہاں یہ بتائیں اس بات کا حضور کو علم تونہیں ہوا ہے۔جواب ملا۔وہ تومیں نے بتا دیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ باجوہ صاحب نے مضطرب ہو کر حضور کو بھی پریشان کیا ہیں ور پر نظم پڑھتے ہوئے میری ماں بہنو اور بیٹیوں کی جاسکیاں میری ساعت سے ٹکرائیں میرا دل اس وقت بھی انہیں سن رہا ہے۔نے کہا میں اسٹیج پر فلاں جگہ بیٹھوں گا اگر اب وہ ایس پی صاحب یا ان کا کوئی اسخت پولیس افسرادھر آ نکلے تو مجھے بلوا لینا۔تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا۔میں اسٹیج سے اتر تو دیکھا کہ میرے ایک پرانے شناسا ادب پرست سیاست دین بن گئی خلاقت ثالثہ کے دور میں پاکستان کی سیاست نے ایسا نہ تنگ عیدالا کہ دین کا پولیس افسر ہیں۔قریب آئے اور ہم بڑی گرمجوشی سے جو ایک دوسے سے لیٹے تو لبادہ اوڑھ لیا۔دلائل وبراہین سے عاجز آئے ہوئے مولویوں کے طائفہ نے حکومتی غلام باجوہ صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔میں نے حیرت سے پوچھا شاہ جی ! گردشوں کا طواف شروع کر دیا اور بوالہوس مقتدر نے اپنے دور حکومت کو طول دینے اتنے سارے پھول کیسے لگ گئے ہے کہنے لگے۔آج ہم سات سال کے بعد مل رہے ہیں۔کے لئے اللہ تعالی کے احکامات ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور قرآن کیا سات سال میں مجھ ایسے لائی پولیس افسر کا انسپکٹر سے ایس پی ہو جانا اچنبھے کی کریم کے نام فرامین کو بالائے طاق رکھ کر خدائے جبار و قہار کے منصب کو ھکاتے ہوئے بات ہے یا اسٹیج کے پیچھے حضرت مولوی محمد دین صاحب کے لئے جیپ کھڑی تھی۔مکرم با جوده صاحب، حضرت چودھری احمد مختار صاحب ، مولانا احد خان نسیم شاه صاب پاکستان میں جماعت احمد کے کھو کھانا ازاد و غیرمسلم قراردے دیا جس سے اس عاجز کی رائیس پی اور خاکسار کو لے کہ اس میں جابیٹھے۔اور مہمان کی چائے اور خشک میووں سوچ کا انداز تبدیل ہوگیا جلاب لانہ اس سال بھی ہوا۔وارفتگان احمدیت مرکز سلسله میں جوق در جوق پہنچے اس سال دسمبر کو میں نے حضرت سید نا ناصر کے ارشاد پر اتر سے تواضع کی۔حاضرہ پر به نظم پڑھی سے پہ سجا کر راستہ پر خطر ہے ستم کی رات سیاہ بھی پھرشاہ صاحب اپنے ماتحت افسروں کے ساتھ راؤنڈ پر چلے گئے اور اور میں بھاگا بھاگا قصر خلافت پہنچا کہ حضور کی پریشانی دور کروں۔اس وقت شاید گر اب دل کو ہو فکر کیوںکہ جنوں ہے شیل راہ بھی سیالکوٹ کی جماعت کی ملاقات ہو رہی تھی حضور نے مجھے دیکھا۔میرے چہرے کا بغور جو گزرگئی ہیں قیامتیں ، نہ کہیں گے اُن کی حکائتیں جائزہ لیا کہ پریشان نہیں ہے۔پھر اشارے سے اپنے پاس بلایا دومنٹ کے لئے ملاقات روک دی گئی۔میں نے من وعن سارا واقعہ تایا تو حضور اپنے مزاج اور عادات کوئی کرنے ظلم کی انتہانہ کریں گے ہم کوئی آوہ بھی جوگے تھے زخم دہ سی لئے جو ہے تھے لیکن پی لئے در شکوہ سارے ہی بند ہیں نہ سنو گے دل کی کراہ بھی میں خدائے دین مدنی بھی ہوں و مصطفے گھاگرا بھی ہوں میری فرد جرم میں درجہ میرے سر ہے یہ گناہ بھی کے خلاف بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس پڑے اور فرمایا۔و تمہارا جہاں میں ہوں ، لاہور کا ایک مستقل کالم بن گیا۔اس سے بہتر اور جامع تبصرہ اس صورت حال پر نہیں ہوسکتا۔حالات حاضرہ کی عکاسی یہ ماہ و سال ہی ایسے تھے کہ ان سالوں دد