المحراب

by Other Authors

Page 135 of 207

المحراب — Page 135

” یہ (نان) تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کیلئے ہے“ لنگر خانہ حضرت مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قا دیانی باقی مسلسلہ عالیہ احمد یه کم آفتاب علیم دین طلوع ہوا تو متلاشیان تُصَعِرُ خِلْقِ اللهِ وَلَا تُسم من النَّاسِ الْقَيْتُ عَلَيْكَ مُحبَّة حق کشاں کشاں اس رخ انور کے گرد جمع ہونے لگے۔انتشار روحانیت کا زمانہ تھا کوئی متوال خواب دیکھ کر حاضر ہوتا۔کے پی کشف والقاء کے نتیجے میں سفر کرتا کوئی مسیح کی آمد کی نشانیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر تلاش میں نکل کھڑا ہوتا کوئی مضامین وکتب پڑھ کرنا بغہ روز گار متف کی طرف آمادہ سفر ہوتا کوئی تحقیق جنب تو ہمیں سرگرداں ہو کر آتا۔غرض ہر سمت سے سعید رو میں ایک ہی پیش نمیہ نور کی طرف رواں دواں تھیں۔ایک طرف خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا فرما رہا تھا تو دوسری طرف استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔خدا تعالیٰ تید واردان کی روحانی پیاس سمجھانے کے ساتھ مہمانی سیری کا انتظام بھی کریہ ہا تھا۔آسی دورہ سے جو چودہ سال پہلے ام القری کی چھاتیوں میں اترا تھا۔اور صاحب کوثر کے توسط سے اُس کا فیضان اول و آخر کے لئے جار میں کر دیا گیا تھا۔حضرت اقدس کی زندگی کے اس دن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے دینی مشاغل سے آنا شغف تھا کہ حصول رزق کی طرف توجہ دینے کا مطلتنا وقت نہ تھا۔پھر کوئی مى وَلِتَصْنَعَ عَلى عينى۔ترجہ میں مجھے لوگوں کیلئے ایک امام بناؤں گا۔یعنی وہ تیرے پیرو ہوں گے اور تو ان کا پیشوا ہوگا۔وہ ہر ایک دور دراز ماہ سے تیرے پاس آئیں گے اور توابع دا قسام کی تعداد میں تیرے لئے لائیں گئے میں ایک جماعت کے دلوں میں الہام کروں گا تا دو مالی مدد کریں نہیں وہ تیری مدد کریں گے جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور ایک دنیا ہماری طرف جوع لے آئے گی تب میں کہا جائے گا کہ کیا یہی نہ تھا جو آج پورا ہوا اور تجھے چاہیئے کہ جب خدا کی مخلوق تیری طرف رجوع کرے تو تم نے اُن سے خالی نہ کرنا اور نہ ان کی کثرت کو دیکھ کر تھکنا میں اپنی طرف سے دلوں میں تیری محبت ڈالوں گا تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے اور اپنے مقصود کیلئے طیار کیا جاہے۔روحانی خزائن جلد یا معتمد من حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔سوالیا ہی ہوا اور ایک مدت درازہ کے بعد خدا نے دیوں میں میری محبت اس قدر ڈال دی کہ علاوہ مالی مدد کے بعض نے میری راہ میں مرنا بھی قبول مستقل ذریعہ آمد بھی نہ تھا۔صاحب جائیداد بزرگوں کی اولاد تھے لیکن قطری سادگی اورفینیت کیا اور وہ سنگا بھی کئے گئے منگردم نہ مارا اپنی جان میرے لئے چھوڑ دی مگر مجھے چھوڑا پسندی کی وجہ سے نہ محفلیں جنانے کا شوق تھا۔نہ قوت الموت کے سوا کسی قسم کی خاطر میرے لئے دکھ اُٹھائے او صدہا کوس سے محبت کر کے قاریان آگئے کام و دہن کی طرف توجہ تھیں، آپ فرماتے ہیں ہے ابتدا سے گوشہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اس عظمت سے عام پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کی میں نے کب مانگتا تھا یہ تیرا ہی ہے سب بزرگ دیار کا در و قیوم خدا نے یہ فرمایا کہ آپ کو دنیا پہ ظاہر فرمائے اور ستجدید دین حق کا کام ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام آپ کو مخاطب کر کے فرمایا۔فَجَادَ إِن تَعَالَ وَتَخَرَفٌ بَيْنَ النَّاس ( موالات حضرت مسیح موجود جلد نه مه ۳۵) دروحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۰۴ اور ایسا ہی ہوا دست قدرت نے آپ کی طرف جنگ کی مہار موندی خدائی مہمان کثرت سے قادیان کا رخ کرنے لگے۔پھر فرماتے ہیں میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اپنے جوتے پر بٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیں تھا وہ نان اس نے مجھے دیا اور کہا۔یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے در دیشوں کے لئے ہے۔یہ اس زمانہ کی خواب ہے جبکہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعوسی رکھتا تھا اور نہ میرے اب وقت آگیا ہے کہ تیری مدد کی جائے اور تجھے لوگوں میں نیک نامی سے شہرت دی جائے۔ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر آپ میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں میز خدا تعالیٰ نے فرمایا۔نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیا ہے۔اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اني جاعلك لِلنَّاسِ مَا مَا يَأْتُونَ مِن كُل فج عَمِيقٍ يَا تِيكَ اور اپنے قدیم دوستوں اور تقاریب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری مہا ئیگی میں آباد ہوئے ہیں۔اور زبان سے میں نے یہ تیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ مشکفل ہو گا اور مِن كُلِّ فِي عَمِيقٍ يَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ - إِذَا جَار نفَر اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهَى أَهْرُ الزَّمَانِ ! ليس هذا بالحقِّ وَلا رزق کی پریشانی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔(قریباً ۱۸۷۴) تذکرہ حضرت مسیح موعود من ۱۸۰ دا