المحراب — Page 133
تیاری ہوتی ہے دوسری طرف علمائے کرام شبانہ روز بہترین علمی مضامین کی تیاری کہا جاسکے تو وہ بلا شبہ احمدیت کے مراکز ہیں۔مشاہدہ کرتا ہو تو علی سالانہ پر میں مگن نئے سے نئے زاویوں سے دلائل کھوجتے ہیں۔بازاروں کی چہل پہل ہیں اگر مہمانوں کو شب تنور گزارتے اور دعوت شیراز کھاتے دیکھ لیں۔سادگی ، درویشی اضافہ ہو جاتا ہے۔نفر اور فرزانگی کی اس سے بہتر مثال کہیں اور نہیں ملے گی۔جلسہ ہر مرتبے کے احمدی ایسے مقامات جہاں سیاحوں کی کثرت سے آمد و رفت ہو بڑے بڑے کے لئے صرف بنیادی ضروریات کے ساتھ زندگی گذارنے کی مشق کراتا ہے۔تکلفات متجارتی مراکز بن جاتے ہیں۔جائے والانہ کا ایک ثمر یہ بھی ہے کہ مہمانان گرامی کی آمد سے اجتناب کی عملی تربیت دیتا ہے جسم در رج کا ضعف کمزوری اور کسل دور ہو کر سے ملک ملک کی اشیاء سے اہل مرکز کا اور ملکی مصنوعات کا بیرون ملک ایک حالت انقطاع پیدا ہوتی ہے۔اس دنیا کی لذات کو چھوڑ کر اخروی زندگی کی سے آنے والے مہمانوں سے تعارف ہوتا ہے جس سے ملک کا نام روشن ہوتا ہے تیاری کا ہوش پیدا ہوتا ہے۔بازاروں کا ماحول عام دنیا دی بازاروں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔دیانتداری توکل جائے سالانہ روحانی قوت کی ایسی بیٹری ہے جو ہر سال نئے تعلق کی بجلی سے اور تقوی کا معیار بہت بلند ہوتا ہے ہر عمر کے خریداروں کی ٹولیاں خاص طور پر ایسی چارج ہو کہ احباب جماعت کی ترقی کے سامان کرتی ہے خلیسہ کا کسی وجہ سے انعقاد چیزوں کی طرف لپکتی ہیں جنہیں وہ جلسہ سالانہ کی یادگار کے طور پر اپنے پاس محفوظ نہ ہو سکتا اس دور میں تعطیل کی بجائے اضافی قوت عطا کرتا ہے سر شملہ میں علیہ کے التواء سے حضرت مسیح موعود نے جماعت کے لئے زیادہ دعائیں کیں۔الہی رکھ سکیں اور دوست احباب کو شخص دے سکیں۔عد سالانہ کے با برکت موقع پر کتب سلسلہ کی نشر واشاعت خرید فروخت جماعت پر آزمائشوں کے کئی دور آئے۔اگر عیسہ نہ ہوا تو دل کا کرب دعاؤں میں محصل کا کام بھی عروج پر ہوتا ہے۔صرف اسی ایک پہلو سے بھی جائزہ از دیاد امیان کا گیا۔انفرادی طور پر اگر کوئی شخص حلیہ یہ شامل نہ ہوسکا تو ہوں اشکوں اور دعاؤں کی باعث ہو سکتا ہے ان تعلیہ کے جلسہ سالانہ میں طے ہوا تھا کہ اشاعت دین کے لئے فریاد آسماں گیر ہوئی۔حلیہ میں شمولیت کے شوق میں سو طرح کی آزمائشوں سے ایک مطبع جاری کیا جائے جس کے لئے لوگ حسب استطاعت جوشی چندہ دیں۔گڑنے کی انفرادی داستانیں یکجا کر لی جائیں تو اخلاص و قربانی کا بھر تو خار دکھائی دے ۹۲ دوستوں نے ساڑھے پانچ پیسے سے دس روپے تک ماہوار چندہ لکھوایا جو کل گا۔کہیں نوکری آڑے آئی تو استعفیٰ دے دیا۔کوئی بہار ہے تو شافی خدا پر توکل کرتے ملا کہ ایک مہینے میں۔، روپے در آنے چار پائی بننا تھا۔یہ ابتدا تھی جس کی تدریجا ترقی ہوئے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔نان شبینہ کے محتاج نے بھی پیٹ کاٹ کر سفر خرچ کا عالم یہ ہے کہ کئی جدید پرویں جماعت کی مطبوعات شائع کر رہے ہیں۔طلبہ کے جمع کیا مگر ابراہیمی طیور کی پرواز جاری رہی۔جلسہ کی بندش بھی بے ثمر نہیں رہی۔ایک دوسے دن کی تقریر ہیں جن مطبوعات کا تعارف امام وقت کی زبان مبارک سے ہور در بند ہوا تو ہزار در کھل گئے۔ایک ہی شجر ایمان کی سمت میں آسمانی پانی سے جگہ جگہ جائے وہ زیادہ اشتیاق سے خریدی جاتی ہیں جلسہ کے ایام میں جماعت کے انبار رسائل نمو پاتے لگیں۔قریہ قریہ ملک ملک جیسے ہونے لگے اگر ہر جلسے کی حاضری کو یکجا کیا کے لئے چندے جمع کروائے جاتے ہیں۔ثمرات کے ذکر میں علوم و ایمان میں ترقی اور دین جائے تو کئی کئی بڑھ جائے۔اس سے ہزار اور وہ بھی یا برگ وبار یہ سب محض کے مستقبل کو سنوارنے کی تدابیر بہت اہم ہیں۔جید علماء کی تقاریر سے فیض رسانی مستی ہیں فضل خداوندی ہے۔از دریا د ایمان کے لئے خدا تعالٰی کا یہ وعدہ ہمیشہ ذہن نشین رہنا انقلاب یہ پا کر دیتی ہے۔بعض احمدی احباب جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے وہ تقاریر کے چاہیے۔کہ حضرت مسیح موعود کے توسط سے یہ وعدہ سب اہل جماعت کے ساتھ ہے إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ وَمَعَ كُلَّ مَنْ أَحَبَّكَ توسط سے میدان مناظرہ و مباحثہ میں اپنے مقابل کو چاروں شانے چت کرانے کے مشتاق ہو جاتے ہیں۔امام وق کی زبانی ترقی کاسال به سال جائزہ حمدوشکر کے ساتھ مقابلے کی رح پیدا کرتا ہے۔نو واروان خود کو مضبوط زمین پر مہربان آسمان کے ( الهام حضرت مسیح موعود تذکره (۵۴) میں تمہارے کے تھہ ہوں اور تمہارے اہل کے ساتھ ہوں اور ان سب سائے تلے محسوس کرتے ہیں۔ایسے مجاہد جن کو تمام دنیا کی اصلاح کا بیڑہ اٹھاتا ہے کے ساتھ ہوں جو تم سے محبت کرتے ہیں۔“ ان کے لئے جلست المانہ دعوت الی اللہ کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا ہے۔احمدی احباب اپنے غیر از جماعت دوستوں کو جلسہ میں لے کر آتے ہیں اس طرح وہ براہ راست علمائے واحکامات کی روح کو سمجھ کر عمل کیا جائے۔تاکہ الہی مدد شامل حال رہے حضرت محبت کرنے کا سلیقہ یہ ہے کہ کامل اطاعت کی جائے اور امام کے منشاد سلسلہ احمدیہ سے جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد اور اختلافی مسائل پر معادل جامع مصلح موعود فرماتے ہیں۔د مانع تاریہ سنتے ہیں، ہر احمدی شخص عالم اور فصیح الزبان نہیں ہوتا۔اس طرح وہ اپنا الہی مدد کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ یا وجود دنیوی مخالفت کے ایک فراعینیہ دعوت الی اللہ مہمانوں کو لا کہ کما حقہ پورا کر سکتا ہے۔قوم بڑھتی چلی جاتی ہے اور کوئی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو کر ہ ارض پر زمین کا کوئی حصہ اگر ایک موجود ہے جسے سمجھ اور مثالی دینی معاشرہ سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والی قوم کی پشت پر آ جاتا ہے اور اس ددا