المحراب — Page 125
خاتمیت محمدیہ کی عظیم تجلیات مولانا سلطان محمود انور صاحب صداقت حضرت مسیح موعودان در قرآن مولا نا عبدالمالک خان صاحب تغییر آیت استخلاف مولانا عبد السلام طاہر صاحب سیرت حضرت خلیفہ المسیح الثالث مولانا محمد شفیع اشرف صاحب ہجرت حضرت علی علیہ السلام صاحبزادہ مرزا انس احمد ذکر حبیب مرزا عبد الحق صاحب غیر ملکی و خود کے نمائندگان نے بھی احباب سے خطاب کیا۔احمدی مستورات کی ذمہ داریاں شرکت کو ہر صاحبہ خلافت ثالثہ کی اہم تحریکات نسیم سعید صاحبہ ریجانہ شاہین صاحبہ اسلام میں پردہ حضرت مسیح موعود کا عشق رسول تمرینه ہاشمی صاحبہ جماعت احمدیہ کے ذریعے ترقی دین حق ان اقل مرضیه در در صاحبه قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے حضرت سیدہ مہر آیا صاجزادی امتہ القدوس خلافت کی اہمیت ۱۳۶ دسمبر کو تنظارت اصلاح و ارشاد کے زیر انتظام شعیہ اجلاس بید اللافضلی بل این تقی زائل کی مندی کی تیاری کیلئے ، طاہرہ صدیقہ صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح میں ہوا جس میں علمائے سلسلہ کی تقاریہ ہوئیں۔ر دسمبر کو مجالس خدام الاحمدیہ کے شعبہ تحریک جدید کے زیرانتظام عالمگیر زبانوں کا جلسہ ہو اجس میں دنیا کی مختلف زبانوں میں تقاریہ ہوئیں۔نظارت اصلام ، ایشاد کے تحت دفاتر صدر انجمن احمدیہ میں ایک تبلیغی نمائش لگائی گئی۔ور دسمبر کور تاریخ احمدیت میں پہلی بار صرف بیرونی ممالک کے نمائندوں یہ ہر مشتمل مجلس شوری سرائے فضل عمر میں ہوئی ہیں میں ۲۴۷ ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔جا سالانه مستورات احمدی خواتین کی تربیت اولاد کی زرداریاں ) الثالث اکانوے واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۸۳ء یمقام۔بیت الاقصی ریوہ اس جلسہ میں انڈونیشیا - تانجیر یا مارلینس۔امریکہ۔ملائشیا کینیڈا ٹرینیڈاڈ - مقام - عقب خلافت لا نبریدی ( ہیمر کو بارش کی وجیہ بیت المبارک میں ہوا) جرمنی۔جنوبی افریقہ۔یہ طانیہ۔یوگنڈا ، ہالینڈ - غانا - تنزانیہ اور مشرق اوسط کے اس جلسہ میں امریکہ۔نائیجیریا۔غاتا۔انڈونیشیا۔بدنی سیسری لنکا۔ماریشس چار ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔تھی۔سنگا پورہ ملائشیا اور پوچھ گیانا کی ۳۹ خواتین تشریف لائیں۔۲۶ دسمبر کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے افتتاحی خطاب فرمایا جس میں عام اسلام حضرت خلیفہ امیر الرابع کے تینوں خطابات مردانہ جلسہ گاہ سے گنتے گئے نیز کے دیکھ دور کرنے کے لئے دعاؤں کی خصوصی تحریک فرمائی۔نیز فرمایا کہ ہم دوسروں مولانا دوست محمد صاحب شاہد مجیب الرحمان صاحب اور مولانا عبد المالک خان صاحب سے محبت کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔محبت زندہ رہنے کے لئے ہوتی کی تقاریر بھی مردانہ جملے نگاہ سے سنی گئیں۔ہے۔نفرت اس پر کبھی غالب نہیں آسکتی ؟۔دسمبر کو حضور زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور مستورات سے خطاب فرمایا در سمیر کو دوسرے اجلاس میں خطاب فرماتے ہوئے حضور نے اہم جماعتی امور جس میں احمدی مستورات کو پردہ کی پابندی کرنے سے متعلق شدید تنبیہ کی۔اور فرمایا اور دوران سال ہونے والے خدا کے فضلوں کے نتیجے میں جماعتی ترقیات کا تذکرہ فرمایا۔کہ احمدی خواتین کو جذ بہ قربانی اور اطاعت امام سے کام لے کر حقیقی پر دہ اختیار کرنا ۱۳۸ دسمبر کو جلسہ کے آخری اجلاس میں حضور نے " عدل احسان اور ایتنا ونذی القربی چاہیئے۔اگر کوئی عورت پردہ کے معیار پر پوری نہ اتری تو اس کے خلاف سخت ترین کے موضوع پر اختتامی خطاب فرمایا۔اپنے خطاب میں حضور نے فرمایا۔کارروائی کی جائیگی۔دین کے معاملے میں خدا تعالے نے ہمیشہ کے لئے جبر و اکراہ کو ختم کر دیا ہے خطاب سے قبل حضور نے تعلیمی منصوبہ کی آٹھویں تقریب میں 4 طالبات کو اے احمدیو ! پور سے ہندیہ سے کھڑے ہو جاؤ اور ساری دنیا میں عدل قائم کرنے تمغے اور تفسیر صغیر کا تحفہ دیا۔بلہ منفورات میں ہونے والی تقاریرہ کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ذکر حبیب حضرت سیده مریم صدیقه صد رایحه مرگمه بیه حضرت محمد بحثیت معلم اخلاق ثریا خانم صاحبه کی کوشش کرو امسال پہلی بارہ دسمبر کو حضور کا خواتین سے خطاب زمانہ جلسہ گاہ سے براه راست مردانہ جلسہ گاہ میں بھی سنا گیا۔اس جلسہ میں ہونے والی علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔