المحراب — Page 6
سوم رسے گا۔شرائط بیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ اشتهار تکمیل تبلیغ وار جنوری ۶۱۹۸ تحریر فرموده حضرت مسیح موعود و مہدی معہود اول بیعت کننده سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت ہیں کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بنادت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔اور نفانی ہوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا۔اگر چہ کیا ہی جذبہ پیش آئے۔یه که بلاناغ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا سر روزہ در دنیا ئے گا۔چهار در یہ کہ عام خلق اللہ کو عموما او مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔پنجم یہ کہ ہر حال رنج و راحت اور غیر اور ٹیسر اور نعمت اور بلاہ میں خدا تعالے کے ساتھ وفاداری کرے گا۔اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا۔اور ہریک ذلت اور ڈکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا۔اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں میرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔شتم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو ابھی اپنے سر پر قبول کر لے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے سر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ہفتم یہ کہ تکبر اور نخوت کو لیکلی چھوڑ دے گا اور فروشنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور سکینی سے زندگی بسر کرے گا۔هشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر کر یہ سمجھے گا۔نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دھم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض الله با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا۔اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی منظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔