المحراب — Page 37
مدحت مهدی دوران امتہ الباری ناصر کہیں رانچ نہیں وہ لفظ دنیا کی زبانوں میں جو مدحت مہدی دوراں کی خوبی سے بیاں کر دیں سلام اس فارسی الاصل مہندی شاہزادے پر شریا سے جو ایماں لائیں منشور زماں کر دیں سلام اس ساقی کوثر کے روحانی تسلسل پر عیاں جس کی صداقت یہ زمین و آسماں کر دیں سلام أن عجز کی راہوں ، تو کل اور تقویٰ پر جو اک خلوت نشیں کو مہدی آخر زماں کر دیں سلام ان نیم وا آنکھوں پر رحمت بار نظروں پر کبھی دل کو کریں گھائل کبھی تخلیلِ جاں کر دیں وہ سلطان العلم ، معجز بیاں، انفاس قدوسی مسیحائی سے جو مردوں کو زندہ جاوداں کر دیں وہ برکت جس کے کپڑوں سے ملے شاہانِ عالم کو وہ جس بستی میں رہتے ہوں اسے دارالاماں کر دیں وہ جس دل میں بھی دیکھیں پیار سے سب خار غم چن لیں جو گل ہوں اپنے دامن میں وہ نذر دوستاں کر دیں ہوا ہو منعکس نور محمد جن کے پیکر میں زمیں کو برکتیں دیں اس قدر تک جناں کر دیں کبھی آدم کبھی خوشی کبھی یعقوب و ابراہیم کے تصور میں بھی وہ مہتاب آکر شادماں کردیں نہایت صبر سے دل پر سہیں ہر وار دشمن کا یہی دُھن تھی نمایاں دین حق کی عزو شاں کر دیں یہ دی تعلیم ہم کو گالیاں سن کر دعائیں دیں جو دُکھ سے چور ہو جائیں خدا کو درمیاں کر دیں کوئی بد بخت ارادہ بھی کرے ان کی اہانت کا قضاد قدر بل کہ اس کو رسوائے جہاں کردیں خدا جس کو کچل ڈالے اسے ہم یاد کیوں رکھیں جو مرفوع القلم ہو اس کو خارج از بیان کر دیں دُعا دے تخم ریزی کرنے والے باغ کے مالی تمنا ہے جہاں کا ذرہ ذرہ گلستاں کر دیں بس اک رستہ ہے جو بندے کو آقا سے ملاتا ہے بس اک دھن ہے کہ سر کو وقت سنگ آستاں کر دیں ۳۹