المحراب — Page 36
ماے جان تمنا ابھی جیا اصغری بیگم نورالحوسے آقا نے میرے اک خوش خبری آج ان لفظوں میں سناتی ہے ہم اُن میں کے متوالو ! بس دیر کے کل یا پرسوں کی ! آواز مرے آقا کی جب ان کانوں میں رس گھولے گی آنکھیں برکھا برسائیں گی بن آتے گی پیار کے نرسوں کی ! رونق افروز وہ جب ہوں گے ہر شام عرفان کی مجلس میں بھر بھر کر جام لنڈھائیں گے اور پیاس بجھے گی برسوں کی ! اک نور کی چادرتان کے جب وہ تجمع محط محفل آئیں گے پروانوں کی بھی بن آئے گی نکلے گی قمت برسوں کی ! میرے من مندر کی بگیا میں جب پیار کی کلیاں چٹکیں گی پھر اور بہاریں آئیں گی پھولیں گی فصلیں سرسوں کی برسوں کے پیاسے راہی جب اس گھاٹ سے پینے آئیں گے جس گھاٹ پہ ہر سو پہنچی ہیں دھاریں قرآن کے درسوں کی ! یہ بھولے بھالے غلام اپنے آقا سے یہ کہت چاہتے ہیں اک اک پل ہم پر بھاری ہے تم بات کرو ہو عرصوں کی ! اے جان تمنا آ بھی جا اسکے اور نہ ہیم کو تڑپانا ہم ہار گئے اور مار گئی ہم کو یہ جدائی برسوں کی!