المحراب — Page 117
سے لبریز ہو گیا۔اللہ تعالے نے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو گئے۔وہاں کے حالات کے مطابق نوری ضرورت پوری کرنے کے لئے کی جماعت کو حیرت انگیز جند یہ قربانی سے نوازا ہے۔الحمد للہ۔برتن اور چو ہے نہیں گئے۔امداد کا باقی سامان خدام کی مدد سے براہ راست جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء في الدنيا والآخرة۔تمام ممبرات پہنچایا گیا۔نقد رقم 1946 روپے جمع ہوئے ۵۰۰ پہلے ہوئے کپڑے لجنہ اور جانی و مالی قربانی میں سابقات الا و لات کو میرا محبت بھرا برتن اور راشن کا سامان پہنچایا گیا۔سلام اور منہ اکم اللہ احسن الجتہاد ڈاکٹر آصفہ نعیم صاحبہ کی زیر نگرانی ۲۰ مکمل بیگ ابتدائی طبی امداد کے تیارہ کر کے مکرمه عزیزه حمید صاحبه، امانت خاتون صاحبہ بھجوائے گئے اس خدمت کی سعادت بیگم میار کہ ملک صاحبہ بشری الیاس اور عزیزہ پر وین کو میرا خصوصی سلام۔اللہ تعالے محمود، امتد السمیع و باب صاحبه، بیگم نصرت دین صاحبہ محترمہ شہناز مظفر ان کی قربانیوں کا بہتر بدلہ دے اور اپنے فضلوں کا وارث بناتے۔والسلام خاکسار صاحبہ بیگم بریگیڈیر متان صاحبہ بیگیر ایم اے خورشید صاحبہ کہ حاصل ہوئی۔ہونہار طلباء کو وظائف مستحق طلباء کو یونیفارم ، نصابی کتب کے سیسٹ اورر اسکول بیگ در لیے گئے جن پر سالانہ ۳۶۰۰۰ روپے کی رقم خرچ ہوئی۔اس سلسلہ میں میں محترمہ امتہ الرفیق پاشا کی کوششیں قابل تحسین دستخط مرتبا طا ہر احمد خلیفہ اسیح الرابع ہیں جنھوں نے تعلیمی امداد کے اس شعیہ کو منظم اور مربوط خطوط پر چلایا۔گرم بستروں کی تیاری پر ۲۷۵۰۸ روپے خرچ کئے گئے۔ضرورت مندوں چادریں پیش کی گئیں۔حضور ایدہ الودود نے سب چندہ دینے والی بہنوں کے کی خدمت میں ۷۳۲ گرے ۷۴۵ رضائیاں ، آئیے اور ۱۳۲ بستر کی نام اپنے دستخطوں کے ساتھ خطوط بھیجوائے جن میں بیش قیمت دعا میں تھیں۔کراچی کی خواتین خدمت خلق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں کہ ہو بیوگان کی خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے ماہانہ وظائف کے موسم گرمامیں ملیر ندی کا بندا اچانک ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں وسیع کے طور پر ۲۶۷۸۰ روپے نقد پیش کئے گئے۔علاقے میں تباہی پھیل گئی سیلاب کے متاثرین کی فوری مدد کی ضرورت دیگر مستحقین میں تقسیم کی جانے والی رقم ۴۳ ۳۹ کم روپے تھی۔محسوس کر کے بستر کپڑے دوائیں اور نقد امداد کا انتظام کیا گیا۔محترمہ اللہ اسمہینے وہاب صاحبہ اور بیگم کرنل منور صاحب نے بلا اتنیانہ مذہب، ملت، خدمت کا موقع پایا۔ڈاکٹر سکندر فرحت صاحبہ بینہ کراچی کی لائبر میری کے لئے ۱۴ سٹیل کی الماریاں بنائی گئیں جن پر ۱۸۹۰۰ روپے صرف ہوئے۔بدین صوبہ سندھ کا ایک پسماندہ علاقہ ہے۔احمدی ڈاکٹر وہاں نے متاثرہ علاقے میں رضا کارانہ طور پر مریضوں کا معائنہ کیا اور متوقع ہیضے تقدمت کے لئے جاتے رہتے ہیں۔لیڈی ڈاکٹر نہ کو بھی خدمت کی کے خطرے کے پیش نظر بشری داور صاحبہ نے بیضے سے بچاؤ کے لئے کثر مقدار سعادت ملی۔چنانچہ ڈاکٹر آصفہ نعیم صاحیہ، ڈاکٹر سکنہ صاحبہ ڈاکٹر میں دو ایک تیار کر کے تقسیم کرنے کے لئے بھیجیں۔ہماری خوش قسمتی ہے امتہ النیت ید صاحبہ اور ڈاکٹر ناصرہ ملک صاحبہ وند کے ساتھ تشریف کہ حضور ایدہ الورور نے ایک خطبہ جمعہ میں کراچی لجنہ کی ان خدمات کی نے گئیں۔محترمہ ڈاکٹر ناصرہ ملک صاحبہ اور ڈاکٹر منور ملک صاحب نے تعریف کی۔اورنگی ٹاؤن میں بے گناہ انسانوں کے بے دریغ م روپے کی ضروری ادویہ فراہم کیں۔محترمہ مبارکہ ما صاحب اور بیگم حمید دانا صاحبہ ۷۵ تھا کیڑا مالیتی ۱۲۴۸۷ روپے لے کر گئیں اور وہاں کے مستحقین کو تحفہ دیا۔کہیں کا نہایت اچھا اثر ہوا۔کپڑے کی خریداری میں محترم ملک مبارک احمد صاحب کا تعاون حاصل رہا۔ان خدمات کا ذکر تحدیث قتل و غارت کا اندو ناک حادثہ ہو اس کو میری خدمت خلق حزنه بار که لک صاحبہ نے عباسی شہید ہسپتال میں نہ ضمیوں کی حالت زار دیکھی اور مرگ یہ عمل ہو گئیں۔شدید سردی میں آسمان تلے پڑے ہوئے گھائل بے گھر غمزدہ لوگوں نعمت کے طور پر کیا گیا ہے۔کے لئے بستر اور کپڑے نہیں گئے۔ایدھی ٹرسٹ کے ذریعے پچاس بستر پہنچائے حضرت سلطان القلم کی جماعت پر جب اصحاب الکہف الرقیم ۱۲۵