اللہ تعالیٰ — Page 62
۶۲ جل شانہ و عزاسمہ اپنے روبرو منگوایا۔چنانچہ وہ بکر اجب اُن کے رو برو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اُس نے دیا۔۔۔۔۔اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے۔ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دے دیتی ہیں اور اُن میں سے بچے نکلتے ہیں۔بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھا اور آدھا چوہا بن گیا۔حکیم فاضل قرشی یا شائد علامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان ماؤف ہو کر بہرہ ہو گیا تھا۔پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہو گیا جو آخر وہ سوراخ سے ہو گئے۔اس سوراخ کی راہ سے وہ برا برشن لیتا تھا گویا خدا نے اس کے لئے دوسرا کان عطا کیا۔۔۔۔جالینوس سے سوال کیا گیا کہ کیا انسان آنکھوں کی راہ سے ئن سکتا تھا ؟ اُس نے جواب دیا کہ ہنوز تجر بہ شہادت نہیں دیتا لیکن ممکن ہے کہ کوئی ایسی مشارکت کانوں اور آنکھوں کی مخفی ہو جو کسی ہاتھ کے عمل سے یا کسی سماوی موجب سے ظہور پذیر ہو کر اس خاصیت کے ظہور کا موجب ہو جائے۔کیونکہ ابھی علم استدراک خواص متن نہیں۔ڈاکٹر برنی آرنے اپنے سفر نامہ کشمیر میں پیر پنجال کی چڑھائی کی تقریب بیان پر بطور ایک عجیب حکایت کے لکھا ہے کہ جو تر جمہ کتاب مذکور کے صفحہ ۸۰ میں درج ہے کہ ایک جگہ پتھروں کے ہلانے جلانے سے ہم کو ایک بڑا سیاہ بچھو نظر پڑا جس کو ایک نوجوان مغل نے جو میری جان پہچان والوں میں سے تھا اٹھا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا اور پھر میرے نوکر کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔مگر اُس نے ہم میں سے کسی کو بھی نہ کاٹا۔اس نوجوان سوار نے اس کا باعث یہ بیان کیا کہ میں نے اس پر قرآن کی ایک آیت پڑھ کر پھونک دی ہے اور اسی عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑ لیتا ہوں۔اور صاحب کتاب فتوحات و فصوص جو ایک بڑا بھارا نامی فاضل اور علوم فلسفہ و تصوف میں بڑا ماہر ہے۔وہ اپنی کتاب