اللہ تعالیٰ — Page 61
บ جل شانہ و عزاسمہ ہے اس لئے دوسرے امور جو نادر الوقوع ہوتے ہیں وہ بمقابل امور کثیر الوقوع کے نہایت مضمحل اور مشتبہ بلکہ باطل کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔اسی وجہ سے عوام کیا بلکہ خواص کو بھی اُن کے وجود میں شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔سو بڑی غلطی جو حکماء کو پیش آتی ہے اور بڑی بھاری ٹھو کر جو اُن کو آگے قدم رکھنے سے روکتی ہے یہ ہے کہ وہ امور کثیر الوقوع کے لحاظ سے نادر الوقوع کی تحقیق کے در پے نہیں ہوتے اور جو کچھ اُن کے آثار چلے آتے ہیں اُن کو صرف قصے اور کہانیاں خیال کر کے اپنے سر پر سے ٹال دیتے ہیں۔حالانکہ یہ قدیم سے عادت اللہ ہے جو امور کثیر الوقوع کے ساتھ نادر الوقوع عجائبات بھی کبھی کبھی ظہور میں آتے رہتے ہیں۔اس کی نظیریں بہت ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔اور حکیم بقراط نے اپنی ایک طبی کتاب میں چند چشم دید بیماروں کا بھی حال لکھا ہے جو قواعد طبی اور تجربہ اطباء کی رو سے وہ ہرگز قابل علاج نہیں تھے مگر ان بیماروں نے عجیب طور پر شفا پائی جس کی نسبت اُن کا خیال ہے کہ یہ شفا بعض نادر تاثیرات ارضی یا سماوی سے ہے۔اس جگہ ہم اس قدر اور لکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات صرف نوع انسان میں محدود نہیں کہ کثیر الوقوع اور نادر الوقوع خواص کا اس میں سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اگر غور کر کے دیکھیں تو یہ دوہرا سلسلہ ہر یک نوع میں پایا جاتا ہے مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کو دیکھو کہ کیسا تلخ اور زہر ناک ہوتا ہے مگر کبھی مدتوں اور برسوں کے بعد ایک قسم کی نبات اس میں پیدا ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں اور لذیذ ہوتی ہے۔اب جس شخص نے اس نبات کو بھی نہ دیکھا ہو اور معمولی قدیمی تلخی کو دیکھتا آیا ہو بے شک وہ اس نبات کو ایک امر طبعی کی نقیض سمجھے گا۔ایسا ہی بعض دوسری نوع کی چیزوں میں بھی دُور دراز عرصہ کے بعد کوئی نہ کوئی خاصہ نادر ظہور میں آ جاتا ہے۔کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا