اللہ تعالیٰ — Page 46
۴۶ جل شانہ و عزاسمہ بنیاد کے وقت سے چلا آتا ہے۔وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق شدید پیدا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متوتی ہوا ہو۔اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمر شکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کو مدد کی ہو اور خدا کی طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مراد بھی وہی خدا کی صفاتِ حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں بھی ملاحظہ ہوتی ہیں مثلاً خدا کی قدرت کا ملہ اور وہ رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیت اور وہ رحم جو خدا میں پایا جاتا ہے اور وہ عام ربوبیت اس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بے قراروں در ماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔اور اُس کی یہ خوبی کہ جولوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ ان کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر اُن سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گو دوسرے کی نسبت فقط حسن میں داخل ہیں۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو در حقیقت اس کا حسن اور جمال ہے احسان کے رنگ میں بھی دیکھ لیتا ہے تو اس کا ایمان نہایت درجہ قوی ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی طرف ایسا کھنچا جاتا ہے جیسا کہ ایک لوہا آہن ربا کی طرف کھنچا جاتا ہے۔اس کی محبت خدا سے بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا بھروسہ خدا پر بہت قوی ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اس بات کو آزما لیتا ہے جو اس کی تمام بھلائی خدا میں ہے اس لئے اُس کی اُمید میں خدا پر نہایت مضبوط ہو جاتی ہیں اور وہ طبعاً نہ