اللہ تعالیٰ — Page 112
١١٢ جل شانہ و عزاسمہ ہے لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ لا یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ تا یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا۔کہ اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ - لا یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اُس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ لا یعنی خدا وہ ہے جو زمین اور آسمان میں اسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ قا یعنی ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا اور تغیر پذیر ہے اور وہ جو باقی رہنے والا ہے وہی خدا ہے یعنی ہر ایک چیز فنا قبول کرتی ہے اور تغیر قبول کرتی ہے مگر انسانی فطرت اس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہے کہ اس تمام عالم ارضی اور سماوی میں ایک ایسی ذات بھی ہے کہ جب سب پر فنا اور تغیر وارد ہو اس پر تغیر اور فنا وارد نہیں ہوگی۔وہ اپنے حال پر باقی رہتا ہے وہی خدا ہے لیکن چونکہ زمین پر گناہ اور معصیت اور ناپاک کام بھی ظاہر ہوتے ہیں اور خدا کوصرف زمین تک محدود رکھنے والے آخر کا ر بت پرست اور مخلوق پرست ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ تمام ہندو ہو گئے۔اس لئے قرآن شریف میں ایک طرف تو یہ بیان کیا کہ خدا کا اپنی مخلوق سے شدید تعلق ہے اور وہ ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک ہستی اُسی کے سہارے سے ہے۔پھر دوسری طرف اس غلطی سے محفوظ رکھنے کے لئے کہ تا اس کے تعلق سے جو انسان کے ساتھ ہے کوئی شخص انسان کو اس کا عین ہی نہ سمجھ بیٹھے جیسا کہ ویدانت والے سمجھتے ہیں۔یہ بھی فرما دیا کہ وہ سب سے برتر اور تمام مخلوقات سے وراء الوراء مقام پر ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں عرش کہتے ہیں۔اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے الانعام: ۱۰۴ تاق : ۱۷ تا الانفال : ۲۵ تا النور : ۳۶ قا الرحمن : ۲۸،۲۷