اللہ تعالیٰ — Page 96
۹۶ جل شانہ و عزاسمہ شعاعوں کو کامل طور پر دیکھے تا اس زبر دست کشش سے خدا کی طرف کھینچا جائے پھر ایسے کریم اور رحیم کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ انسان کو اپنی سعادت مطلوبہ اور اپنے مرتبہ فطرتیہ تک پہنچانا نہیں چاہتا یہ حضرات برہمو کی عجب عظمندی ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار ص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۲ حاشیہ نمبر ۱۱) خدا نے انسانوں میں جس مطلب کا ارادہ کیا ہے پہلے سے اس مطلب کی تکمیل کے 6* لئے تمام قو تیں خود پیدا کر رکھی ہیں مثلاً انسانی روحوں میں ایک قوت عشقی موجود ہے اور گو کوئی انسان اپنی غلطی سے دوسرے سے محبت کرے اور اپنے عشق کا محل کسی اور کو ٹھہر اوے لیکن عقل سلیم بڑی آسانی سے سمجھ سکتی ہے کہ یہ قوت عشقی اس لئے رُوح میں رکھی گئی ہے کہ تا وہ اپنے محبوب حقیقی سے جو اس کا خدا ہے اپنے سارے دل اور ساری طاقت اور سارے جوش سے پیار کرے۔پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوت عشقی جو انسانی روح میں موجود ہے جس کی موجیں نا پیدا کنار ہیں اور جس کے کمال تموج کے وقت انسان اپنی جان سے بھی دستبردار ہونے کو طیار ہوتا ہے۔یہ خود بخو د روح میں قدیم سے ہے ہرگز نہیں۔اگر خدا نے انسان اور اپنی ذات میں عاشقانہ رشتہ قائم کرنے کے لئے رُوح میں خود قوت عشقی پیدا کر کے یہ رشتہ آپ پیدا نہیں کیا تو گویا یہ امر اتفاقی ہے کہ پر میشر کی خوش قسمتی سے روحوں میں قوت عشقی پائی گئی اور اگر اس کے مخالف کوئی اتفاق ہوتا یعنی قوت عشقی روحوں میں نہ پائی جاتی تو کبھی لوگوں کو پر میشر کی طرف خیال بھی نہ آتا اور نہ پر میشر اس میں کوئی تدبیر کر سکتا کیونکہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی سوچنا چاہئے کہ پرمیشر کا بھگتی اور عبادت اور نیک اعمال کے لئے مؤاخذہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ اُس نے خود محبت اور اطاعت کی قوتیں انسان کی رُوح کے اندر رکھی ہیں۔لہذاوہ چاہتا ہے کہ انسان جس میں خود اوس نے یہ قو تیں رکھی ہیں اس کی محبت اور اطاعت میں محو ہو جائے ورنہ پر میشر میں یہ خواہش پیدا کیوں ہوئی