اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 77
ایک اور موقعہ پر آنحضور نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ دعا بتلائی :- اللهمَّ إنِّي أَسْتَألُكَ بِجَمِيعِ أَسْمَاءِكَ الْحُسْنى كلِهَا مَا عَلِمْنَا مِنْهَا وَمَالَمْ تَعْلَمُ : له اہی ! میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنی کے وسیلہ سے درخواست کہتی ہوں۔ان اسماء کے وسیلہ سے بھی جن کو ہم جانتے ہیں اور جن کو ہم نہیں جانتے۔تاریخ اسلام میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ دلچسپ واقعہ بھی ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں خدا تعالیٰ کا وہ نام نہ بتاؤں جو دعاؤں کی قبولیت کا موجب ہوتا ہے۔عرض کیا یا رول الله ! میرے ماں باپ آپ پہ قربان ہوں ، ضرور بتائیے مگر حضور نے فرمایا کہ عائشہ تجھے یہ نام معلوم نہیں کرنا چاہیئے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔لیکن ایک کو نہ میں کچھ دیر بیٹھی رہی ، پھر کھڑی ہوئی اور آنحضرت کے سر مبارک کو چوما اور پھر نام سکھلانے کی درخواست کی۔اس پر حضور نے دوبارہ یہی جواب ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے اس کا دریافت کر نا مناسب نہیں ہے۔اس پر حضرت عائشہ نہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور خدا کے حضور دعا کی کہ : - اللهمَّ إِنِّي ادْعُوكَ اللَّهَ وَادْعُوكَ الرَّحْمَنَ له : الدر المنثور" جلد ٣ من ١٣ للسيوطى۔