اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 44 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 44

۴۴ دلکش اور انقلاب آخرین تصور پیش کیا ہے کہ انسان وجد میں آگرا در بیتاب ہو کر آستانہ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔اور اپنے گناہوں اور تقصیری کی معافی کا خواستگار ہونے کے بعد صرف ایک ہی التجا کرتا ہے اور وہ یہ کہ تو میرا ہو جائے اور میں تیرا ہو جاؤں۔جیسا کہ حضرت اقدس بانی جماعت احمدیہ اپنی ایک مناجات میں اللہ تعالی کی درگاہ میں عرض کرتے ہیں :۔اسے خدا وند من گناهم بخش پر سوئے درگاه خویش را هم بخش روشنی بخش در دل و جانم و پاک کن زگناه پنب تم دل ستانی و دربائی کن + بہ نگا ہے گرہ کشائی کن دو عالم مرا عزیہ توئی : آنچه می خواهم از تو نیز توئی ہے اسے میرے خدا وند ! میرے گناہ بخش دے اور اپنی درگاہ کی طرف مجھے رستہ دکھا ، میری جان اور میرے دل میں روشنی دے اور مجھے میرے مخفی گناہوں سے پاک کر۔دل ستانی کو اور دل پر بائی دیکھا اور اپنی ایک نظر کرم سے میری مشکل کشائی فرما۔دونوں عالم میں تو ہی میرا پیارا ہے اور جو چیز میں تجھ سے چاہتا ہوں ، وہ بھی تو ہی ہے۔در دو صفات الہیہ کے عرفان میں تفاوت (۱۸۱: اسلام کا حکم ہے کہ لِلهِ الأَسماء الحسنى فَادْعُوهُ بِهَا ( اعراف :(۱) د کی بہت سی اچھی صفات ہیں پس تم ان کے ذریعہ سے اسکی دکھا کیا کرو۔ه درشین فارسی مترجم ص وطبع دوم ) :