اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 13
۱۳ اور کنایوں اور پیرایوں میں اس بنیادی حقیقت کی طرف بھی ضرور توجہ دلائی ہے کہ دنیا محض کمرہ امتحان اور عارضی اور وقتی اور طفیلی چیز ہے اور شمس قمر اور دوسرے اجرام بالا خر فنا ہونے والے ہیں اور ازلی اور ابدی اور جیتی و قیوم ذات صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔اور یہ کہ انہی انسانی روح اور فطرت میں ازل سے تسخیر کائنات کا جو بے پناہ دلولہ اور جوش رکھا ہے۔وہ محبوب حقیقی کی تلاش و جستجو کی طرف راہنمائی کے لئے ہی رکھا ہے۔اس لئے بنی نوع انسان کا واحد نصب العین یہ ہونا چاہیئے کہ وہ کسی طرح اس پوری کائنات کے خالق و مالک خُدا کی عالی باند گاہ تک رسائی حاصل کر ہیں۔اور اس دنیا میں ہی اس کے عرفان اور لقاء اور رویت کا شرف انہیں میتر آجائے تا ابدی زندگی پاسکیں۔چنانچہ سورہ کہف کے آخر میں مغربی اقوام کی ایجادات کی خبر دینے کے بعد اسی دنیا میں دیدا یا اہلی کی واضح بشارت دی گئی ہے۔چنانچہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے :۔تَمَن كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا۔سورہ کہف آیت : ۱۱۱) تغییر حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ الفہ برکت نے اس آیت کی ایسی وجد آخر کی ہے کہ اسلام کے حقیقی تصوف کے پورے خدو خال ہی نہیں ، اس کی روح بھی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں :- " یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں خدا کا دیدار نصیب ہو جائے