الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 94
ضمیمه حقيقة الوحي ۹۴ الاستفتاء فمن سوء الأدب أن يقال إن عيسى پس یہ کہنا بے ادبی ہوگی کہ عیسی فوت نہیں ہوئے ما مات، وإن هو إلَّا شرک عظیم اور یہ شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔اور یہ يأكل الحسنات ويخالف الحصاة ہے بھی عقل کے خلاف۔بلکہ وہ (عیسی ) اپنے بل هو توفّى كمثل إخوانه، ومات دوسرے ( رسول ) بھائیوں کی طرح فوت ہو گئے كمثل أهل زمانه۔وإن عقيدة اور اپنے ہم عصر لوگوں کی طرح وفات پاگئے۔اور حياته قد جاءت فی المسلمین ان کی حیات کا عقیدہ عیسائی مذہب سے مسلمانوں الملة النصرانية، وما اتخذوه میں در کر آیا ہے۔اور انہوں نے صرف اسی إلَهَا إلَّا بهذه الخصوصية، ثم خصوصیت کی وجہ سے اُسے معبود بنالیا ہے۔پھر أشاعها النصارى ببذل الأموال نصاری نے مال و دولت خرچ کر کے اس عقیدہ کی تمام دیہاتوں اور شہروں میں اشاعت کی۔کیونکہ لم يكن أحد فيهم من أهل الفكر ان میں کوئی بھی اہل فکر و نظر نہ تھا۔اور وہ جو من في جميع أهل البدو والحضر، بما والنظر۔وأما المتقدمون من مسلمانوں میں سے متقدمین ہیں ان سے یہ بات المسلمين فلم يصدر منهم هذا القول صرف ٹھوکر اور لغزش کے سبب سے ہوئی ہے۔إلَّا على طريق العثار والعثرة پس نادانستہ طور پر خطا کرنے کی وجہ سے وہ اللہ فهم قوم معذورون عند الحضرة کے نزدیک معذور قوم ہیں۔اور انہوں نے یہ غلطی بما كانوا خاطئين غير متعمدين۔وما أخطأوا إلَّا من وجه الطبايع محض سادہ لوحی کی وجہ سے کی ہے۔اور اللہ الساذجة، والله يعفو عن كل مجتهد صحت نیت سے اجتہاد کرنے والے ہر مجتہد کو جو يجتهد بصحة النية، ويؤدّى حق کسی خیانت کے بغیر حتی المقدور تحقیق کا حق ادا التحقيق من غير خيانة على قدر کرتا ہے،معاف فرما دیتا ہے۔سوائے ان لوگوں الاستطاعة۔إلا الذين جاء هم الإمام کے، جن کے پاس امام حکم ہدایت کے کھلے کھلے الحكم مع البينات من الهدى، وفرّق دلائل لے کر آیا۔اور اس نے ہدایت کو گمراہی الرشد من الغى و أظهر ما اختفى سے علیحدہ کر دیا اور جو پوشیدہ تھا اسے ظاہر کر دیا۔