الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 93

ضمیمه حقيقة الوحي ۹۳ الاستفتاء ولا تكن كمثل الذين تركوا كلام تو ان لوگوں جیسا نہ بن جنہوں نے کلام الہی کو پس الله وراء ظهورهم فلا يبالون پشت ڈال دیا ہے۔اور وہ پرواہ نہیں کرتے اور وہ ويقولون إن المسلمين أجمعوا علی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اُس کی حیات پر اجماع حياته۔۔كلا، بل هم يكذبون۔وأين ہے۔ہرگز نہیں۔درحقیقت وہ جھوٹ بول رہے الإجماع وفيهم المعتزلون؟ وإذا ہیں۔جب ان میں معتزلہ موجود ہیں تو پھر اجماع قيل لهم ألا تفكرون في قول کیا؟ جب ان سے کہا جائے کہ کیا تم اپنے رب کے ربكم : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى أو به لا فرمان فلما تو فیتنی پر غور نہیں کرتے یا کیا تم اس پر تؤمنون؟ فليس جوابهم إلا أن ایمان نہیں لاتے۔تو اس کا جواب ان کے پاس اس يحرفوا آيات الله ويقولوا إن معنی کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کی آیات کی تحریف التوفّـى رفع الروح مع الجسم کریں اور یہ کہیں کہ توفی کے معنی روح کا بجسد عصری العنصري۔انظر كيف عن الحق اٹھایا جانا ہے۔تو دیکھ وہ کس طرح را و حق سے ہٹ يعدلون ويعلمون أن هذا القول قول یجیب به عیسى بحضرة العزة يوم وکذالک فی الفرقان تقرؤون رہے ہیں۔جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ قول وہ قول ہے جو عیسی قیامت کے روز بارگاہ رب العزت میں جواباً القيامة إذ يسأله الله عن ضلالة الأمة، کہیں گے جب اللہ ان سے امت کی گمراہی کی نسبت فعجبت، والله، كلّ العجب من شأنهم، پوچھے گا اور یہی کچھ تم فرقان حمید میں پڑھتے ہو۔اللہ ومن عقلهم وعرفانهم ألا يعلمون کی قسم ! مجھے ان کی حالت اور عقل و عرفان پر سخت تعجب أنه ما كان لبشر أن يحضر يوم النشور ہے۔کیا وہ نہیں جانتے کہ کسی بشر کے لئے ممکن نہیں من قبل أن يُقبض روحه ويكون من كہ وہ اپنی روح قبض کئے جانے اور اصحاب قبور کے أصحاب القبور؟ ما لهم لا يتدبرون؟ | زمرہ میں شامل ہونے سے قبل حشر ونشر کے روز وقد حثا الصحابة التراب فوق حاضر ہو۔انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ غور نہیں کرتے اور خير البرية، ومزاره موجود إلى صحابہ نے خیر البریہ کو زمین میں دفن کیا اور (۳۹) هذا الوقت في المدينة المنوّرة۔آپ ﷺ کا مزار اب تک مدینہ منورہ میں موجود ہے۔۱۳۹۰