الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 3
ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء ثم يسبون دين الله وخير الأنام، مزید برآں وہ (پادری) اللہ کے دین اور خیر الا نام وهذا أشد المـصــائـب على ( حضرت محمد مصطفی من ) کو گالیاں دیتے ہیں، اور یہ الإسلام۔والدين الذى قائم علی اسلام پر ایک نہایت شدید مصیبت ہے۔اور ایسا خشب لا حاجة إلى تحقيقه، ولا دين جو محض ایک لکڑی پر قائم ہو اُس کی تحقیق کی کوئی يهدى العقل إلى تصديقه، بل ضرورت نہیں ، اور نہ عقل اس کی تصدیق کی طرف تـعـافـه فطرة طيبة، وتفرّ من هذا رہنمائی کرتی ہے۔بلکہ پاک فطرت اس سے الحديث، وتُطلق بطلاق ثلاث نفرت کرتی اور ایسی باتوں سے بھاگتی ہے اور مذهب التثليث۔وأما صعود تثلیث کے مذہب کو تین طلاقیں دیتی ہے اور رہا عیسی ونزوله فهو أمر يكذبه العـقــل وكتاب الله القرآن، وما (حضرت) عیسی کے صعود اور نزول کا مسئلہ تو اسے عقل اور اللہ کی کتاب قرآن جھٹلاتی ہے۔اور هو إلَّا كَتَعِلَّةٍ تُنام بها الصبيان، أو وہ محض ایک لوری کی طرح ہے جس سے بچوں کو كالتماثيل التي تلعب بها سلایا جاتا ہے یا گڑیاں ہیں جن سے لڑکیاں اور الجوارى والغلمان۔ما قام عليه لڑکے کھیلتے ہیں۔جس پر نہ تو کوئی دلیل قائم ہوئی دليل وما شهد عليه برهان فخلاصة الكلام أن هذا المدعى ہے اور نہ کسی برہان نے اس کی گواہی دی۔پس ظهر في هذه الأيام، عند كثرة خلاصہ کلام یہ کہ یہ مدعی اس زمانے میں ظاہر ہوا الفتن وكثرة البدعات وضعف جس میں فتنوں اور بدعات کی کثرت تھی اور اسلام پر ضعف طاری تھا۔الإسلام۔وما وجد في أحواله قبل هذا الدعوى نیز اس دعوی سے پہلے اس کے احوال میں جھوٹ شيء من عادة الكذب والافتراء، اور افترا کی کسی عادت کا شائبہ تک نہیں پایا گیا۔نہ لا في زمن الشيب ولا في زمن الفتاء | بڑھاپے کے زمانے میں اور نہ جوانی کے عالم میں۔