الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 190

ضمیمه حقيقة الوحي 190 الاستفتاء اذا نصر الله المؤمِنَ جعل له جب خدا تعالیٰ مومن کی مدد کرتا ہے تو زمین پر اُس الحاسدين في الارض - کے کئی حاسد مقرر کر دیتا ہے۔ولا راد لفضله - اور اس کے فضل کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔فالتارموعدهم - پس جہنم اُن کے وعدہ کی جگہ ہے۔قل الله ثم ذرهم في خوضهم کہہ خدا نے یہ کلام اُتارا ہے پھر ان کو لہو ولعب کے يلعبون - خیالات میں چھوڑ دے۔واذا قيل لهم أمنوا كما امن اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ۔جیسا کہ الناس قالوا أَنُؤْمِنُ كما امن لوگ ایمان لائے کہتے ہیں کیا ہم بے وقوفوں کی السُّفَهَاءُ - أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ طرح ایمان لائیں خبر دار ہو کہ درحقیقت وہی لوگ وَلكِنْ لا يعلمون - بے وقوف ہیں مگر اپنی نادانی پر مطلع نہیں۔وَإِذَا قِيْلَ لهم لا تُفْسِدُوا فی الارض اور جب اُن کو کہا جائے کہ زمین پر فساد مت کرو قالوا انما نحن مُصلِحون - کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔قل جَاءَ كُم نُورٌ مِّنَ اللہ کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر مومن فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين - ہو تو انکار مت کرو۔أَمْ تَسْئَلهم من خرج فهم مِنْ کیا تو ان سے کچھ خراج مانگتا ہے پس وہ اُس مَّغْرِمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔چھٹی کی وجہ سے ایمان لانے کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتے۔بلاتينهم بالحَقِّ فهم لِلْحَقِّ بلکہ ہم نے ان کو حق دیا اور وہ حق لینے سے کراہت کارهون کرتے ہیں۔تلطف بالناس وتَرَحْم عليهم لوگوں کے ساتھ لطف اور رحم کے ساتھ پیش آ۔لفظ من ليس في القرآن الكريم من کا لفظ قرآن کریم میں نہیں ہے ہاں الہام میں وو 660 ولكن جاء لفظ مِنْ في الالهام منه ”من“ کا لفظ آیا ہے۔منہ