الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 181
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۸۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الاستفتاء یا احمد بارک الله فیک۔اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله جو کچھ تو نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ رمی۔خدا نے چلایا۔الرَّحْمَن ـ عَلَمَ القرآن - لِتُنْذِرَ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ قَوْمًا مَا انْذِرَ ابَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ پر ظاہر کئے۔تا کہ تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تا کہ مجرموں کی سَبيلُ المجرمين - راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وانا اول کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں المؤمنين۔سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔قل جاء الحق وزهق الباطل اِن کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - كُلُّ بركة من محمّد صلی الله ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عليه وسلّم - فتبارک من علم ہے۔پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔وتعلم۔وقالوا ان هذا الا اختلاق - قل اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی الله ثم ذرهم في خوضهم طرف سے بنائے ہیں۔اُن کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر اُن کو لہو و لعب کے يلعبون خیالات میں چھوڑ دے۔قل ان افتريتُه فعلی اجرام اُن کو کہ اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام شدید۔نہیں تو پھر میں سخت سزا کے لائق ہوں۔