الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 148
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۴۸ الاستفتاء 6 إنهم أصروا على التكذيب انہوں نے تکذیب پر اصرار کیا یہاں تک کہ وہ زیادتی حتى صاروا أوّل المعتدين! وكلّ کرنے والوں میں اول درجہ پر ہو گئے۔اور (ان میں جَهَدَ جهده، وبذل ما عندہ سے ہر ایک نے اپنی پوری کوشش کی اور جو اس کی بساط لِيُطْفِى نورًا نزل من السماء میں تھا اسے صرف کر دیا تا کہ وہ آسمان سے نازل فزاد الله نوره، وما كان جهدهم ہونے والے نور کو بجھا دے مگر اللہ نے اپنا نور بڑھایا إلَّا كالهباء۔ورأينا فتنتهم اور ان کی کوششیں غبار کی طرح تھیں۔اور ہم نے ان كالبـحــر إذا ماج، والسيل إذا کے فتنے کو لہریں مارتے ہوئے سمندر اور تند و تیز هاج، ولكن كان مآل الأمر فتحنا سیلاب کی مانند دیکھا لیکن اس معاملہ کا نتیجہ ہماری وهزيمتهم، وعزتنا و ذلّتهم۔ولو فتح اور ان کی ہزیمت اور ہماری عزت اور ان کی ذلت كان هذا الأمر من غير الله تھا اور اگر یہ کاروبار غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ لمزقونی کل ممزق ، ولمحوا (مخالف) مجھے پارہ پارہ کر دیتے۔اور زندہ لوگوں سے نقشى من الأحياء ، ولكن كانت ميرا نقش مٹادیتے لیکن اللہ کا ہاتھ مجھے دشمنوں کے شر الله تحفظني من شر الأعداء ، سے بچاتا رہا۔یہاں تک کہ میرے نشان دور دراز حتى بلغت آيــاتـي إلى أقصى ملکوں تک پہنچ گئے اور یہ محض رب العباد کا فعل تھا۔اور البلاد، فما كان هذا إلَّا فعل رب اب ہم اس عظیم الشان نشان کو لکھتے ہیں جو بلاد العباد۔والآن نكتب آية ظهرت امریکہ میں ظاہر ہوا۔اور ہمارا سورج مشرق سے طلوع في بلاد أمريكه، وطلعت شمسنا ہوا۔یہاں تک کہ اس آفتاب نے اہل مغرب کو من المشرق حتى أرت بريقها نہایت خوبصورت انداز میں اپنی چمک دکھائی۔پس أهل المغرب بصُورٍ أنيقة۔فهذا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اللہ کی عنایت فضل الله ورحمته و عناية الله اور اس کا احسان ہے اور بشارت ہے ان لوگوں کے لئے اور ومنته وبشرى لقوم يعرفونه جو اسے پہچانتے ہیں اور مبارک ہے ان لوگوں کے لئے يد وطوبى لعبادِ يَقْبَلُونَه۔جو اسے قبول کرتے ہیں۔✰✰✰