الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 94

۹۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آئے ہیں۔کوئی شخص مطلقاً مسیح علیہ السلام کے نزول کے عقیدے سے انکار کر سکتا ہے؟ ہاں مسیح" ناصری کا آسمان پر زندہ جانا اور پھر آسمان سے اتر نا بے شک ایک باطل عقیدہ ہے جس کی قرآن وحدیث میں کوئی سند نہیں ملتی۔اور صحیح عقیدہ یہی ہے کہ ان پیشگوئیوں میں ایک مثیل مسیح کی خبر دی گئی تھی جس نے حضرت مسیح ناصری کی طرح محمدی سلسلہ کے آخر میں مسیح کی خُو بو پر ظاہر ہوکر اسلام کی خدمت بجالانی تھی اور وہ خدا کے فضل سے ظاہر ہو چکا ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔خلاصہ یہ کہ جو پیشگوئی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمائی تھی کہ حضرت عیسی کا انتظار کرنے والے تین سو سال کے اندر اندر اس انتظار سے مایوس ہو کر مسیح ناصری کے جسمانی نزول کے عقیدے کو ترک کر دیں گے اس کے آثار ابھی سے شروع ہیں اور گو اس وقت اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کے لئے صرف ایک حصے کا انکار کیا جا رہا ہے مگر وہ وقت دور نہیں کہ کیا مسلمان اور کیا عیسائی اس بحث کے اصلی نقطہ پر آکر یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے کہ جس مسیح کا آسمان سے انتظار کیا جارہا تھاوہ سرور کائنات حضرت خاتم النبین سید الاولین والآخرین کے انفاس قدسیہ کے طفیل اسی زمین میں سے ظاہر ہوکر امامکم منکم کا وعدہ پورا کر چکا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے عشق رسول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے کہ ؎ آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک نمایاں کر دی