الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 93 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 93

۹۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہونا احمدیت کے متعلق ایک سرا سر شکست خوردہ ذہنیت کا نتیجہ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ور نہ کون مسلمان نہیں جانتا کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے کس شد و مد اور کس تکرار کے ساتھ آخری زمانے میں ایک مثیل مسیح کی پیشگوئی فرمائی ہے۔چنانچہ مثال کے طور پر صحیح بخاری کی یہی ایک حدیث کافی ہے جس میں رسول اکرم فرماتے ہیں:- وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوَ شِكَنَ أَنْ يَنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ( صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی ابن مریم ) یعنی مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔وہ دینی اختلافات میں حکم بن کر فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ حق و انصاف کا فیصلہ ہوگا۔وہ صلیبی فتنہ کے زور کے وقت میں ظاہر ہوگا اور اس فتنہ کو پاش پاش کر دے گا۔اور اس وقت دنیا میں خنزیری پلیدیوں کا بھی زور ہوگا اور مسیح ان پلیدیوں کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے گا۔مگر یہ سب کام دلائل اور براہین اور روحانی نشانوں کے ذریعہ ہوگا کیونکہ وہ زمانہ امن کا ہوگا اور مذہبی جنگ اور جزیہ اس زمانے میں موقوف ہو جائے گا“۔کیا اس قسم کی زبر دست پیشگوئیوں کے ہوتے ہوئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی قسم کھا کر بیان فرمائی ہیں اور جو احادیث کی عام کتابوں میں ہی نہیں بلکہ حدیث کی چوٹی کی کتاب تک میں بھی جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ شمار ہوتی ہے پائی جاتی ہیں اور قرآن مجید میں بھی اس کی طرف صریح اشارات ملتے ہیں اور تمام مسلمان صحابہؓ کے زمانے سے لے کر اس وقت تک ان پیشگوئیوں پر ایمان لاتے چلے