الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 2
الحُجَّةُ البَالِغَةُ مرزا صاحب کے دعوی مسیحیت کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں کر سکتا۔ان تین وجوہات کی وجہ سے ضروری ہے کہ قرآن وحدیث اور عقل خدا داد کی روشنی میں اس مسئلہ کو صاف کر کے مخلوق خدا کی ہدایت کا سامان مہیا کیا جائے اور عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کا بول بالا ہو۔حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ اور وفات مسیح ناصری جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی سلسہ احمدیہ کے دعوئی مسیحیت کے راستے میں سب سے پہلا سوال حضرت مسیح ناصری کی وفات کا ہے کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ پہلا مسیح فوت ہو چکا اس وقت تک خواہ حضرت مرزا صاحب کے دعوے کی صداقت پر ہزار سورج چڑھا دیا جائے طبیعت میں ایک گونہ خلجان ضرور رہتا ہے۔جس منصب کا حضرت مرزا صاحب کو دعوئی ہے، یعنی مسیحیت، جب تک اس کی کرسی خالی نہ ہو حضرت مرزا صاحب کی سچائی کے متعلق دل اطمینان نہیں پکڑ سکتا۔لہذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس روک کو دور کیا جائے۔سو واضح ہو کہ قرآن شریف اور احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آخری زمانے میں جب کہ مسلمان کمزور حالت میں ہوں گے اور مسیحی عقائد کا زور ہوگا اور لا مذہبی ہر طرف اپنا دامن پھیلا رہی ہوگی، اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں ایک میسج بھیجے گا جو کہ نہ صرف مسلمانوں میں اصلاح کا کام کرے گا بلکہ غیر مذاہب کے مقابلے میں بھی کھڑا ہوگا اور براہین قاطعہ کے ذریعے اسلام کا غلبہ تمام دوسرے ادیان پر ثابت کر دے گا۔یہاں