الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 1

بسم الله الرحم الراحة وفات وحیات مسیح ناصری کے عقیدہ کی اہمیت الحجة البالغة حضرت عیسی علیہ السلام یعنی حضرت مسیح ناصری کے وفات وحیات کے عقیدہ کو تین لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔اول اس لحاظ سے کہ اس وقت دنیا کا بیشتر حصہ عیسائی مذہب کا پیرو ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح ناصری کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ اس دنیا میں چند سال زندگی گزارنے کے بعد پھر آسمان پر واپس چلے گئے اور وہاں زندہ موجود ہیں اور نعوذ باللہ خدا کی ازلی حکومت کے حصہ دار ہیں۔دوسرے اس لحاظ سے کہ عیسائیوں کے اس عقیدہ سے خاموش طور پر متاثر ہوکر اور بعض قرآنی آیات اور احادیث کی غلط تشریح کر کے اس زمانے کے جمہور مسلمان بھی اس خیال پر قائم ہو گئے ہیں کہ گو حضرت عیسی خدا یا خدا کا بیٹا تو نہیں تھے بلکہ صرف خدا کے ایک نبی تھے مگر صلیب کے واقعہ پر خدا نے انہیں بجسم عنصری زندہ آسمان پر اُٹھا لیا تھا اور وہ اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں پھر دوبارہ زمین پر نازل ہو کر امت محمدیہ کی اصلاح کریں گے۔تیسرے اس لحاظ سے کہ چونکہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے اس لئے جب تک حضرت مسیح ناصری کی وفات وحیات کے عقیدے کا فیصلہ نہ ہوکوئی مسلمان حضرت