الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 15 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 15

۱۵ یعنی ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم جائیں گئے۔الحُجَّةُ البَالِغَةُ تو کیا اس جگہ اللہ کی طرف جانے سے یہ مراد ہے کہ ہم آسمان کی طرف زندہ اُٹھائے جائیں گے؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس کو مخاطب کر کے فرمایا: رَفَعَكَ اللهُ يَا عَم (دیکھو کنز العمال) یعنی اے چا! خدا آپ کا رفع کرے“۔اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چا کے لئے رفع کی دُعا کی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ رفع سے مراد رفع رُوحانی ہے نہ کہ جسمانی کیونکہ حضرت عباس کو کبھی رفع جسمانی حاصل نہیں ہوا۔پھر اور لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز میں پڑھنے کے لئے دعا سکھلائی ہے کہ :- اللهُمَّ ارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَارْفَعْنِي دد یعنی اے میرے پروردگار مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت کر اور مجھے رزق ،، دے اور مجھے رفع عطا کر “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہمیشہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔اب اگر رفع کے معنی رفع جسمانی کے لئے جاویں تو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم ساری عمر رفع کے لئے دعا کرتے رہے مگر آپ کی دعا قبول نہ ہوئی اور آپ کو جسمانی رفع نصیب نہ ہوا نعوذ بالله من هذه الهفوات۔علاوہ اس کے مفردات راغب جو قرآن شریف کی مشہور اور مستند لغت ہے اس میں رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کے معنی یہ لکھتے ہیں کہ :