القصائد الاحمدیہ — Page 68
۶۸ وَ فَوَّضَنِي رَبِّي إِلى فَيُضِ نُورِهِ فَاَصْبَحْتُ مِنْ فَيُضَانِ أَحْمَدَ أَحْمَدَا اور میرے رب نے مجھے آپ کے نور کے فیض کے حوالہ کر دیا تب میں احمد کے فیضان سے احمد بن گیا۔وَهَذَا مِنَ اللَّهِ الْكَرِيمِ الْمُحْسِنِ وَمَا كَانَ مِنْ الْطَافِهِ مُسْتَبْعَدَا اور یہ سب کچھ اللہ کریم محسن کی طرف سے ہے اور ایسا ہونا اس کی مہربانیوں سے بعید نہ تھا۔وَوَاللَّهِ هَذَا كُلَّهُ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَيَعْلَمُ رَبِّي أَنَّهُ كَانَ مُرْشِدَا اور اللہ کی قسم! یہ سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے ہے اور میرا رب خوب جانتا ہے کہ وہی مرشد ہے۔وَ فِي مُهْجَتِي فَوْرٌ وَّ جَيْشُ لَامُدَحَا سُلَالَةَ أَنْوَارِ الْكَرِيمِ مُحَمَّدًا اور میری جان میں ایک جوش اور ولولہ ہے تا میں خدائے کریم کے نوروں کے خلاصے محمد ﷺ کی تعریف کروں۔كَرِيمُ السَّجَايَا اكْمَلُ الْعِلْمِ وَالنُّهَى شَفِيعُ الْبَرَايَا مَنْبَعُ الْفَضْلِ وَ الْهُدَى وہ اعلیٰ خصائل والا اور علم و عقل میں اکمل ہے۔سب مخلوق کا شفیع اور فضل و ہدایت کا منبع ہے۔تَبَصَّرُ خَصِيْمِيُّ هَلْ تَرَى مِنْ مُّشَاكِهِ بِتِلْكَ الصِّفَاتِ الصَّالِحَاتِ بِأَحْمَدَا مجھ سے جھگڑا کرنے والے دیکھ ! کیا تو ان نیک صفات میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مشابہ پاتا ہے۔بَشِيرٌ نَّذِيرٌ امِرٌ مَّانِعٌ مَّعَا حَكِيمٌمْ بِحِكْمَتِهِ الْجَلِيْلَةِ يُقْتَدَى وہ بشیر ہے نذیر ہے حکم دینے والا ہے اور نبی کرنے والا ہے وہ دانا ہے اور اپنی شاندار حکمت کی وجہ سے پیروی کیا جاتا ہے۔هَدَى الْهَائِمِينَ إِلَى صِرَاطٍ مُّقَوَّمٍ وَنَوَّرَ أَفْكَارَ الْعُقُولِ وَأَيَّدَا اس نے سر گردانوں کی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کی اور اس نے عقلوں کے افکار کو منور کیا اور ان کو قوت بخشی۔لَهُ طَلْعَةٌ يَجْلُو الظَّلامَ شُعَاعُهَا ذُكَاءٌ مُّنِيرٌ بُرْجُهُ كَانَ بُرْجُدَا آپ کا نورانی چہرہ ایسا ہے کہ اس کی شعاع تاریکی کو دور کردیتی ہے۔وہ روشن آفتاب ہے جسکا برج مکمبل تھا (جسے آپ اوڑھے ہوئے تھے )۔لَهُ دَرَجَاتٌ لَّيْسَ فِيهَا مُشَارِكٌ شَفِيعٌ يُزَكِّيْنَا وَيُدْنِي الْمُبَعَدَا آپ کو ایسے درجات حاصل ہیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں وہ شفیع ہے۔ہمیں پاک کرتا ہے اور دور شخص کو قریب کر دیتا ہے۔