القصائد الاحمدیہ — Page 67
۶۷ وَكَانَ مُكَاوَحَةٌ وَّ فِسْقٌ شِعَارَهُمْ يُبَاهُونَ مِرِّيحِيْنَ فِي سُبُلِ الرَّدَى اور بدگوئی اور فسق ان کا شعار تھا۔وہ ہلاکت کی راہوں میں مٹک مٹک کر چلنے میں فخر کرتے تھے۔فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ كَافِرٌ إِلَّا الَّذِي أَصَرَّ بِشِقْوَتِهِ عَلَى مَا تَعَوَّدَا پس ان میں سے کوئی کافر باقی نہ رہ سوائے اس شخص کے جس نے اصرار کیا اپنی بد بختی سے اس بات پر جس کا وہ عادی تھا۔شَرِيعَتُهُ الْغَرَّاءُ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ غَيُورٌ فَاحْرَقَ كُلَّ دَيْرٍ وَّ جَلْسَدَا اس کی روشن شریعت ایک شارع عام ہے۔وہ غیرت مند ہے۔اس نے جلا ڈالا ( یعنی بے اثر کر دیا) ہر د سر اور معبد کو۔اتى بِصُحُفِ اللَّهِ لَا شَكٍّ أَنَّهَا كِتَابٌ كَرِيمٌ يَرْفِدُ الْمُسْتَرْفِدَا اور وہ اللہ کے صحیفے لایا۔کچھ شک نہیں کہ وہ ایک معزز کتاب ہے جو طالب انعام کو عطیہ دیتی ہے۔فَمَنْ جَاءَهُ ذُلَّا لِتَعْظِيمِ شَانِهِ فَيُعْطَى لَهُ فِي حَضْرَةِ الْقُدْسِ سُوْدَدَا نص اس کی عظمت شان کے اظہار کے لئے اس کے پاس نیاز مندی سے آئے اسے در بارالہی میں سرداری دی جاتی ہے۔فَيَا طَالِبَ الْعِرْفَانِ خُذْ ذَيْلَ شَرْعِهِ وَدَعْ كُلَّ مَتَبُوْعِ بِهَذَا الْمُقْتَدَى اسے معرفت الہی کے طالب! اس کی شریعت کا دامن پکڑلے اور اس پیشوا کے مقابلہ میں ہر پیشوا کو چھوڑ دے۔يُزَكِّي قُلُوبَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ ظُلْمَةٍ وَمَنْ جَاءَهُ صِدْقًا فَنَوَّرَهُ الْهُدَى وہ لوگوں کے دلوں کو ہر تاریکی سے پاک کر دیتا ہے اور جو بھی اسکے پاس صدق سے آئے تو اسے (اسکی ہدایت منور کر دیتی ہے۔وَ لَمَّا تَجَلَّى نُورُهُ النَّامُ لِلْوَرى وَلَوَّحَ وَجْهَ الْمُنْكِرِينَ وَ سَوَّدَا جب اس کے کامل نور نے مخلوق پرتابی کی اور منکرین کے چہرے کو مجلس دیا اور سیاہ کر دیا۔تَرَاءَى جَمَالُ الْحَقِّ كَالشَّمْسِ فِي الضُّحَى وَلَاحَ عَلَيْنَا وَجُهُهُ الطَّلَقُ سَرْمَدَا تو جمال الہی اس طرح جلوہ گر ہو گیا جس طرح سورج دن کے وقت جلوہ گر ہوتا ہے اور اس کا ہمیشہ چمکنے والا چہرہ ہم پر ظاہر ہوگیا۔وَ قَدِ اصْطَفَيْتُ بِمُهْجَتِى ذِكْرَحَمْدِهِ وَكَافٍ لَّنَا هَذَا الْمَتَاعُ تَزَوُّدَا میں نے اپنے دل و جان سے اس کی تعریف کے ذکر کو پسند کر لیا اور یہی سامان بطور زادراہ کے ہمارے لئے کافی ہے۔