القصائد الاحمدیہ — Page 39
۳۹ وَإِنْ كُنْتَ تَزْعَمُ أَنَّ فِيْهَا دَلَائِلًا فَجَهْلُكَ جَهَلْ بَيِّنٌ لَيْسَ يُسْتَرُ اگر تو یہ خیال کرتا ہے کہ ان میں دلائل موجود ہیں تو تیری نادانی ایک واضح نادانی ہے جو چھپائی نہیں جاسکتی۔وَ اِنْ قُلْتَ امَنَّا بِمَا لَا نَعْقِلُ فَهَذَا الْهُدَى عِندَ النُّهَى مُسْتَنْكَرُ اور اگر تو کہے کہ ہم تو اس چیز پر بھی ایمان لائے ہیں جسے سمجھ نہیں سکتے تو ایسانہ ہب عقل کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔وَسَلِ الْيَهُودَ وَسَلْ أَكَابِرَ قَوْمِهِمْ اَسُلِمَ فِيهِمُ ابْنُكَ الْمُتَخَيَّرُ اور یہودیوں سے پوچھا اور ان کی قوم کے اکابر سے ( بھی ) پوچھ۔کیا ان میں تیرا انتخاب کردہ بیٹا تسلیم کیا گیا ہے؟ وَمَهُمَا يَكُنْ فِى كُتُبِكُمْ ذِكْرُ عِجْزِهِ وَإِنْ خِلْتَهُ يَخْفى عَلَى النَّاسِ يُظْهَرُ اور جو کچھ بھی تمہاری کتابوں میں اس کے عجز کا ذکر موجود ہے وہ ظاہر کر دیا جائیگا خواہ تو خیال کرے کہ وہ لوگوں پر مخفی رہے گا۔جِعَارُكَ خَيْطٌ فَاتَّقِ الْبِرَ وَالرَّدَا أَلِلْمَوْتِ يَا صَيْدَ الرَّدَا تَتَجَمَّرُ تیری کمر کا رسہ ایک دھاگا ہے تو کنویں ( میں اترنے) اور ہلاک ہونے سے ڈر۔اے ہلاکت کے شکار! کیا تو موت کیلئے کمر میں رسہ باندھ رہا ہے؟ أقَلْبُكَ قَلْبٌ اَوْ صَلَايَةُ حَرَّةٍ أَجَهْلُكَ جَهَلْ اَوْ دُخَانٌ مُّغَبَّرُ کیا تیرا دل کوئی دل ہے یا سنگلاخ زمین کی سل ہے؟ کیا تیری جہالت کوئی جہالت ہے یا غبار آلود دھواں؟ أَكَلْتَ خُشَارَةَ كُلّ قَوْمٍ مُّبْطِلٍ فَتَأكُلُ مَا أَكَلُوْا وَ لَا تَتَخَفَّرُ تو نے ہر جھوٹی قوم کا پس خوردہ کھا لیا ہے اور تو کھا رہا ہے جو وہ کھا چکے اور تو شرم نہیں کرتا۔أَبَارَيْتَ يَا مِسْكِينُ ذَا الرُّمْحِ بِالْعَصَا وَأَنَّى أَجَارِدُنَا وَ أَنَّى مِحْمَرُ کیا تو نے اے مسکین ! نیزہ زن کا ڈنڈے سے مقابلہ کیا ہے۔کہاں ہمارے آگے بڑھ جانے والے گھوڑے اور کہاں ٹو۔أَتَرْغَبُ عَنْ دِينِ قَوِيمٍ مُّنَوَّرٍ وَتَتْبَعُ دِينَا قَدْ دَفَاهُ التَّكَدُّرُ کیا تو اعراض کرتا ہے مستقیم نورانی دین سے اور ایسے دین کی پیروی کرتا ہے کہ جسے گدلے پن نے ہلاک کر دیا ہے۔وَ اِنْ لَمْ تُدَاوِرُ جَشْرَةَ الْبُخْلِ وَالْهَوَى فَتَهْوِ نَحِيفًا فِي الْهُلَاسِ وَ تَخْطُرُ اگر تو بخل اور خواہشات نفس کی کھانسی کا علاج نہیں کریگا تو تو لاغر ہو کر سل کی بیماری میں مبتلا ہو جائیگا اور خطرہ میں پڑ جائیگا۔