القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 370

۳۷۰ مُنَا بِخَيْرِ ثُمَّ ذُقْنَا جَفَاءَهُمْ وَجِتُنَا بِعَدْلٍ ثُمَّ لِلظُّلْمِ شَمَّرُوا ہم نے نیکی کا قصد کیا مگر ان سے ظلم دیکھا اور ہم عدل کے ساتھ آئے اور انہوں نے ظلم کرنا شروع کیا۔وَجَدْنَا الْآفَاعِيَّ الْمُبِيْدَةَ دُونَهُمْ وَلَا مِثْلَهُمْ شَرُّ الْعَقَارِبِ تَأْبُرُ ہم نے ہلاک کر نیوالے سانپ ان سے کم درجہ پر دیکھے اور نہ ان کی طرح بدترین عقارب نیش زنی کرتا ہے۔وَمَانَحْنُ إِلَّا كَالْفَتِيْلِ مَذَلَّةٌ بِأَعْيُنِهِمْ بَلْ مِنْهُ أَدْنَى وَأَحْقَرُ اور ہم ایک ریشہ خرما کی طرح ان کی نظر میں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل۔فَنَشْكُرُ إِلَى اللهِ الْقَدِيرِ تَضَرُّعًا وَمَنْ مِثْلُهُ عِنْدَ الْمَصَائِبِ يَنْصُرُ پس ہم خدائے قادر کی طرف تضرع کے ساتھ شکوہ لے جاتے ہیں اور اس کی طرح کون مصیبتوں کے وقت مددکرتا ہے۔رَمَى كُلُّ مَنْ عَادَى إِلَيَّ سِهَامَهُ فَأَصْبَحْتُ أَمْشِي كَالْوَحِيْدِ وَ ا كُفَرُ ہر ایک دشمن نے میری طرف اپنے تیر چلائے پس میں اکیلا رہ گیا اور کا فرقراردیا گیا۔حُسَيْنُ دَفَاهُ الْقَوْمُ فِي دَشْتِ كَرُبَلاَ وَكَلَّمَنِي ظُلْمًا حُسَيْنُ أَخَرُ ایک حسین وہ تھا جس کو دشمنوں نے کربلا میں قتل کیا اور ایک وہ حسین ہے جس نے مجھ کو محض ظلم سے مجروح کیا۔أَيَا رَاشِقِى قَدْ كُنتَ تَمْدَحُ مَنْطِقِى وَتُقْنِى عَلَيَّ بِالْفَةٍ وَتُوقِرُ اے میرے پر تیر چلانے والے! ایک زمانہ وہ تھا جو تو میری باتوں کی تعریف کرتا تھا اور محبت کے ساتھ میری تعریف کرتا تھا اور میری عزت کرتا تھا وَلِلَّهِ دَرُكَ حِيْنَ قَرَّظُتَ مُخْلِصًا كِتَابِي وَصِرْتَ لِكُلَّ صَالٌ مُخَفِّرُ اور تو نے کیا خوب میری کتاب براہین احمدیہ کا اخلاص سے ریو یولکھا تھا اور ہر ایک گمراہ کیلئے رہنما ہو گیا تھا۔وَأَنْتَ الَّذِي قَدْ قَالَ فِي تَقْرِيظِهِ كَمِثْلِ الْمُؤَلِّفِ لَيْسَ فِيْنَا غَضَنُفَرُ اور تو وہی ہے جس نے اپنے ریویو میں لکھا تھا کہ اس مؤلف کی طرح ہم میں کوئی بھی دین کی راہ میں شیر نہیں۔عَرَفْتَ مَقَامِي ثُمَّ انْكَرْتَ مُدْبِرًا فَمَا الْجَهْلُ بَعْدَ الْعِلْمِ إِنْ كُنْتَ تَشْعُرُ تو نے میرے مقام کو شناخت کیا پھر منکر ہو گیا پس یہ کیسا جہل ہے جو علم کے بعد دیدہ دانستہ وقوع میں آیا۔