القصائد الاحمدیہ — Page 350
۳۵۰ الستَ تَرى يَرْمِي الْقَنَا مَنْ عِنْدَكُمْ جَهُولٌ وَلَا يَدْرِى الْعُلُومَ وَاَكْفَرُ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ شخص تم پر نیزے چلا رہا ہے۔کہ جو تمہارے نزدیک جاہل۔بے علم (اور کافر ہے ) فَأَيْنَ ضَرَتْ مِنْكُمْ عَلَامَةُ صِدْقِكُمْ وَاَيْنَ اخْتَفَى عِلْمٌ بِهِ كُنْتَ تُكْفِرُ پس کہاں کود کر تمہاری سچائی کی علامت چلی گئی۔اور کہاں وہ علم چلا گیا جس کے ساتھ تو کافر بنا تا تھا۔28 وَاَيْنَ التَّصَلُّفُ بِالْفَضَائِلِ وَالنُّهَى وَاَيْنَ بِهَذَا الْوَقْتِ قَوْمٌ وَّ مَعْشَرُ اور کہاں وہ لاف زنی جو فضیلت اور عقل کی کی جاتی تھی۔اور کہاں ہے اس وقت تیری قوم اور تیرا گر وہ ؟ وَأَيْنَ عَفَتْ مِنْكُمْ طَلَاقَةُ السُنٍ سَلَاطٍ عَلَيْنَا مِثْلَ سَيْفٍ يُشَهَّرُ اور کہاں نابود ہوگئی زبانوں کی چالا کی۔وہ زبانیں جو ہم پر تلوار کی طرح کھینچی گئی تھیں۔وَفِي خَمْسَةٍ قَدْ تَمَّ نَظْمُ قَصِيدَتِي بَلِ الْوَقْتُ خَالِصَةً أَقَلُّ وَأَقْصَرُ اور میر اقصیدہ پانچ دن میں ختم ہوا۔بلکہ اصل وقت اس سے بھی کمتر ہے یعنی تین دن۔فَفَكِّرُ بِجُهْدِكَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَنَادِ حُسَيْنَا أَوْ ظَفَرُ أَوْ أَصْغَرُ پس تو پندرہ راتیں کوشش کرتارہ۔اور محمد حسین کو اور قاضی ظفر الدین اور اصغر علی کو بلا لے۔وَهَذَا مِنَ الايْتِ يَا أَكْبَرَ الْعِدَا فَهَلْ أَنْتَ تَنْسِجُ مِثْلَهَا يَا مُخَسَّرُ اور یہ خدا کا نشان ہے۔اے بڑے دشمن !۔پس کیا تو اس کی مانند بنالے گا؟ عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْجَبَانُ نُجَمِّرُ فَإِنْ كُنْتَ فِي شَيْءٍ فَبَادِرُ وَ نَبْدِرُ جہاں بزدل بھاگ جاتے ہیں ہم جم کر کھڑے ہیں۔پس اگر تو کچھ چیز ہے تو مقابلہ پر ، پھر ہم دیکھ لیں گے۔اَتَسْتُرُ بَغْيًا بَرْقَ ايْتِ رَبِّنَا سَيُظْهِرُ رَبِّي كُلَّمَا كُنْتَ تَسْتُرُ کیا تو بغاوت کر کے ہمارے رب کے ) نشانوں کی چمک کو پوشیدہ کرنا چاہتا ہے۔پس میرا خدا اوہ سب ظاہر کر دے گا جس کو تو چھپا تا ہے۔تُرِيدُونَ ذِلَّتَنَا وَنَحْنُ هَوَانَكُمْ وَلِلَّهِ حُكُمْ نَافِةٌ فَسَيَأْمُرُ تم ہماری ذلت چاہتے ہو اور ہم تمہاری۔اور خدا کے لئے حکم نافذ ہے۔وہ فیصلہ کر دے گا۔