القصائد الاحمدیہ — Page 281
۲۸۱ اَ تُبْصِرُ فِي عَيْنَى مُخَالِفِكَ الْقَدَى وَعَيْنُكَ مِنْ جِذْلِ عَتَا تَتَشَقَّقِ کیا تو اپنے مخالف کی آنکھ میں ایک تنکا دیکھتا ہے اور تیری آنکھ ایک موٹی جڑ کے اندر جانے سے پھٹ رہی ہے۔تَمُوتُ بِوَادٍ ذِي حِقَافٍ عَقَنُقَلِ وَتَكْرَهُ رَوْضًا مِنْ عُذِيقٍ مُلَبَّقِ تو ایک ریتلے اور نہ بتدریت کے جنگل میں مرتا ہے اور کھجوروں کے باغ سے پر ہیز کرتا ہے۔تَجَلَّى الْهُدَى وَالشَّمْسُ نَضَّتُ نِقَابَهَا وَاَنْتَ كَخُفَّاشِ الدُّجى تَتَأَبَّـقُ ظاہر ہوگئی ہدایت اور سورج نے برقع اتار ڈالا اور تو خفاش کی طرح چھپتا ہے۔وَسَمَّيْتَنِي أَشْقَى الرِّجَالِ تَعَصُّبًا فَتَعْلَمُ إِنْ مِتْنَا غَدًا أَيُّنَا الشَّقِى اور میرا نام تو نے اشقى الرجال رکھا ہے۔پس مرنیکے بعد تجھے معلوم ہوگا کہ ہم دونوں میں سے کون شقی ہے۔وَلَا يَسْتَوِي الْمَرْءَانِ هَذَا مُحَقَّقَ وَاخَرُ يَتْبَعُ كُلَّ قَوْلٍ مُلَفِّقِ اور ایسے دو آدمی برابر نہیں ہو سکتے کہ ایک انمیں سے محقق ہے اور دوسرا ہر ایک رطب و یابس کی پیروی کرتا ہے۔أَرى رَأْسَكَ الْمَنْحُوسَ قَفَرًا مِنَ النُّهَى وَقَلْبًا كَمَوْمَاةٍ وَنَفْسًا كَسَلْمَقِ میں تیرے منحوس سر کو عقل سے خالی دیکھتا ہوں۔اور تیرے دل کو بے آب و دانہ جنگل کی طرح اور تیرے نفس کو بنجر زمین کی طرح۔مَتَى ضَلَّ عَقْلُ الْمَرْءِ ضَلَّتْ حَوَاسُهُ فَلَا يُؤْنِسُ الوَحْلَ الْمُزِلَّ وَيَزْمَقِ جب انسان کی عقل گمراہ ہو جاتی ہے تو ساتھ حواس بھی گمراہ ہو جاتے ہیں پس وہ پھسلانے والے کیچڑ کونہیں دیکھتا اور پھسل جاتا ہے۔كَذَالِكَ مُتُّمُ مِنْ عِنَادٍ وَّنِقْمَةٍ فَأَنَّى لَكُمْ تَائِيدُ رَبِّ مُوَفِّقِ اسی طرح تم عناد اور کینہ سے مر گئے۔پس خدا کی تائید تمہیں کہاں ہے۔افِي الْكُفْرِ أَمْثَالٌ جَفَاءً وَّغِلُظَةً لَكُمْ أَيُّهَا الرَّامُونُ رَمُيَ التَّخَلُّقِ کیا کافروں میں ظلم اور درشتی میں تمہارا کوئی نمونہ پایا جاتا ہے۔اے دے لو گو جو حض دروغ گوئی سے گالیاں دے رہے ہو۔اَهذَا هُوَ التَّقْوَى الَّذِي فِى جُمُوعِكُمْ آتِلْكَ الْأُمُورُ وَمِثْلُهَا شَأْنُ مُتَّقِى کیا یہی تمہاری جماعتوں کا تقویٰ ہے؟ کیا یہ امور اور انکی مانند متقی کی شان کے لائق ہیں؟