القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 255

۲۵۵ ۴۴ قَصِيدَةً مِنَ الْمُؤْلِّفِ مؤلف کی طرف سے ایک قصیدہ إِنَّى صَدُوْقَ مُصْلِحْ مُتَرَدَّمُ سَمٌ مُعَادَاتِي وَسِلْمِي أَسْلَمُ میں صادق اور مصلح ہوں اور میری دشمنی زہر اور میری صلح سلامتی ہے۔إِنِّي أَنَا الْبُسْتَانُ بُسْتَانُ الْهُدَى تَأْتِي إِلَيَّ العَيْنُ لَا تَتَصَرَّمُ میں باغ ہدایت ہوں۔میری طرف وہ چشمہ آتا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوتا۔رُوحِي لِتَقْدِيسِ الْعَلِيِّ حَمَامَةٌ اَوْ عَندَلِيبٌ غَارِدٌ مُتَرَتِّمُ میری روح خدا کی تقدیس کے لئے ایک کبوتر ہے یا نبلبل ہے جو خوش آوازی سے بول رہی ہے۔مَاجِتُتُكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ عَابِثًا قَدْ جِبْتُكُمْ وَالْوَقْتُ لَيْلٌ مُظْلِمُ میں تمہارے پاس بے وقت نہیں آیا۔میں اس وقت آیا کہ ایک اندھیری رات تھی۔صَارَتْ بِلادُ الدِّينِ مِنْ جَدْبِ عَتَا أَقْوى وَأَقْفَـرَ بَعْدَ رَوْضٍ تَعْلَمُ دین کی ولایت بباعث قحط کے جو غالب آ گیا، خالی ہوگئی بعد اسکے جو وہ ایک باغ کی طرح تھی۔هَلْ بَقِيَ قَوْمٌ خَادِمُونَ لِدِينِنَا أَمْ هَلْ رَأَيْتَ الدِّينَ كَيْفَ يُحَطَّمُ کیا وہ قوم باقی ہے جو ہمارے دین کی خدمت کریں اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دین کو کس طرح مسمار کیا جاتا ہے۔فَاللَّهُ اَرْسَلَنِى لِأُحْيِيَ دِينَهُ حَقٌّ فَهَلْ مِنْ رَاشِدٍ يَسْتَسْلِمُ سوخدا نے مجھے بھیجا تا کہ میں اس کے دین کو زندہ کروں یہ سچ ہے پس کیا کوئی ہے جو اطاعت کرے۔