القصائد الاحمدیہ — Page 196
۱۹۶ مجھے اپنے نور سے منور کر دے۔اے میرے طلبا و مالی! ہم تیری ذات کی پناہ لیتے ہیں چھا جانے والی تاریکی سے وَخُذْ رَبِّ مَنْ عَادَى الصَّلَاحَ وَمُفْسِدًا وَنَزِّلُ عَلَيْهِ الرِّجُزَ حَقَّاوَّ دَمِّر اور اے میرے رب! نیکی کے دشمن اور مفسد کو گرفتار کر۔اور حق کی خاطر اس پر عذاب نازل کر اور اسے تباہ کر وَكُنُ رَبِّ حَبَّانًا كَمَا كُنْتَ دَائِمًا وَإِنْ كُنْتُ قَدْ غَادَرُتُ عَهْدًا فَذَكِّرِ اور اے میرے رب ! تو مہربان رہ جیسا کہ تو ہمیشہ مہربان تھا اور اگر میں ذمہ داری کو چھوڑ چکا ہوں تو یاد دلا۔وَإِنَّكَ مَوْلى رَاحِمٌ ذُوْكَرَامَةٍ فَبَعْدُ عَنِ الْعِلْمَانِ يَوْمَ التَّشَور اور یقینا تو رحم کرنے والا آقا اور صاحب کرم ہے سو تو اپنے غلاموں سے شرمندگی کے دن کو دور کر دے أَرَى لَيْلَةً لَيْلاءَ ذَاتَ مَخَافَةٍ فَهَنَّى وَ بَشِّرُنَا بِيَوْمٍ عَبْقَرِى میں بہت سیاہ خوفناک رات کو دیکھ رہا ہوں پس تو مبارک بادی دے اور ہمیں شاندار دن کی بشارت دے وَفَرْجُ كُرُوبِى يَا كَرِيمِي وَنَجِّنِي وَمَزَقَ خَصِيمِيُّ يَا إِلهِي وَعَفْرٍ اوراسے میرے کریم میرے دکھوں کودور کردے اور مجھے نجات دے اور میرے خدا میرے یمن کو پارہ پارہ کرے اور خاک آلود کر دے۔وَلَيْسَتْ عَلَيْكَ رُمُوزُ امْرِى بِغُمَّةٍ وَتَعْرِفْ مَسْتُورِی وَ تَدْرِي مُقَعَرِى اور میرے کام کے رموز تجھ پر مخفی نہیں ہیں اور تو میری پوشیدہ باتوں کا علم رکھتا ہے اور میرے دل کی گہرائی کو جانتا ہے زُلَالُكَ مَطْلُوبٌ فَاخْرِجُ عُيُونَهُ جَلالُكَ مَقْصُودٌ فَايّد وَأَظْهِرِ تیرا آب زلال مجھے مطلوب ہے سو اس کے چشموں کو جاری کر۔تیرا جلال مقصود ہے پس تائید کر اور اپنا جلال ظاہر کر وَجَدْنَاكَ رَحْسَمَانًا فَمَا الْهَمُ بَعْدَهُ نَعُوذُ بِنُورِكَ مِنْ زَمَانٍ مُّكَوَّرِ جب ہم نے تجھ کو رحمان پایا ہے تو اس کے بعد کیا غم ہو سکتا ہے۔ہم تاریک زمانہ سے تیرے نور کی پناہ لیتے ہیں۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ كُلُّهُ لِرَبِّ كَرِيمٍ قَادِرٍ وَّ مُيَسِّرِ اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ تمام کی تمام حمد رب کریم، قادر اور آسانی پیدا کرنے والے کے لئے ہے۔