القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 144

۱۴۴ أعْطَى الْوَرى بِدِلَائِهِ مَاءً مَّعِيْنًا سَيِّغَ اس نے اپنے بوکوں کے ساتھ خلقت کو پانی خوشگوار پلایا۔أَرْوَى الْخَلَائِقَ كُلَّهُمُ إِلا لَهُما أَبْدَغَا اور تمام خلقت کو سیراب کیا بجز اس کے جو ٹیم اور بدی سے آلودہ تھا۔مَنُ جَاءَهُ مُتَبَخْتِرًا وَاَرَى مُدَى اَوْ مِبْدَغَا جو شخص اس کے آگے تکبر سے خراماں آیا اور اپنی کار دیں اور نشتر دکھلائے۔فَتَرَاهُ مَغْلُوْبًا عَلى تُرْبِ الْهَوَانِ مُمَرَّغَا پس تو اس کو دیکھے گا کہ وہ مغلوب ہو گیا اور ذلت کے خاک پر لیٹا۔سَيْف يُكَسِّرُ ضِرْسَ مَنْ بَارِى وَجَاءَ مُتَغْشِغَا وہ ایک تلوار ہے جو اس کے دانت توڑتی ہے جو اس کے مقابل پر آیا۔أَسَدٌ يُمَدِّقَ صَوْلُهُ إِنْ رَاغَ جَمَلٌ أَوْ رَغَا وہ ایک شیر ہے جو اس کا حملہ اس اونٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے جس نے اس کی طرف منہ کیا یا آواز کی۔وَيْلٌ لِكَفَّارِ لَّـدِيـــغِ لـــــــــارِقُ مَـلْــغَــــا اس کا فرمارگزیدہ پر واویلا ہے جو اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہوتا جہاں سے کاٹا گیا۔وَيْلٌ لِمَنُ بَزَغَتْ لَهُ شَمُسٌ فَعَادَى مَبْزَغَا اس شخص پر واویلا ہے جس کے لئے سورج چمکا اور پھر وہ مطلع الشمس سے دشمنی کرنے لگا۔مَنْ فَرَّ مِنْ فَيُضَانِهِ الْأَعْلَى وَ مِمَّا أَفَرَغَا جو شخص اس کے فیضان سے اور فیضان شدہ باتوں سے بھاگا مَا كَانَ قَلْبًا تَائِبًا بَلْ كَانَ لَحْمًا أَسْلَغَا وہ رجوع کرنے والا دل نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا گوشت تھا جو گداز نہ ہوا۔(نور الحق جلداول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۶۴-۱۶۵)