القصائد الاحمدیہ — Page 143
۱۴۳ اقْبَلُ عُيُونَ عُلُومِهِ أَوْ أَعْرِضَنْ مُسْتَوْلِغَا اس کے علموں کے چشمے قبول کر۔یا بے حیا بے باک کی طرح کنارہ کر۔وَاتَّبَعُ هُدَاهُ أَوِ اعْصِهِ إِنْ كُنْتَ مُلُغًا مُّغَا اور اس کی ہدایت کا فرمانبردار ہو جایا اگر تو احمق مخش گو اور دین کو تباہ کرنے والا ہے تو نافرمان بن جا۔مَا غَادَرَ الْقُرْانُ فِي الْمَيْدَانِ شَابَّا بُزْرَغَا قرآن نے میدان میں کسی ایسے جوان کو نہ چھوڑا جو جوانی میں بھرا ہوا تھا۔قَتَلَ الْعِدَا رُعْبًا وَّ إِنْ بَارَى الْعَدُوُّ مُسَبِّغَا دشمنوں کو اپنے رعب سے قتل کیا اگر چہ دشمن زرہ پہن کر آیا۔قَد اَنْكَرُوْا جَهْلًا وَّ مَا بَلَغُوْهُ عِلْمًا مَّبْلَغَا مخالفوں نے جہل سے انکار کیا اور اس کے مقام بلند تک ان کا علم نہ پہنچ سکا۔انْشَنَوْا كَالْخَائِبِينَ وَأَضْرَمُوا نَارَ الْوَغَا یہاں تک کہ مقابلہ سے نومید ہو گئے اور جنگ کی آگ کو بھڑ کا یا۔نُورٌ عَلى نُورٍ هُدى يَوْمًا فَيَوْمًا فِي النَّغَــا اس کی ہدائتیں نو علی نور ہیں۔اور دن بدن وہ نور زیادتی میں ہے۔مَنْ كَانَ مُنْكِرَ نُوْرِهِ قَدْ جِبْتُهُ مُتَفَرِّغَا جو شخص اس کے نور کا منکر ہے میں اسی کے لئے فارغ ہو کر آیا ہوں۔فِيهَا الْعُلُومُ جَمِيعُهَا وَحَلِيْبُهَا لِمَنِ ارْتَغَا اور اس میں تمام علم ہیں اور اس میں علوم کا دودھ ہے اس کے لئے جو اوپر کا حصہ کھا رہا ہے۔فِيهَا الْمَعَارِفُ كُلُّهَا وَقَلِيْبُهَا بَلْ أَبْلَغَا اور اس میں تمام معارف اور انکا کنواں بلکہ اس سے زیادہ ہے۔