اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 77
الهدى و التبصرة لمن يرى 22 اردو ترجمہ ميت ليس له وقع قصرت بالکل مردہ اور بے اثر ہوتی ہے۔اُن کی ہمت همتهم۔وفترت عزمتهم۔لا پست اور قوت ارادی میں فتور آ گیا ہے۔يعلمون الا الأماني كاليهود یہودیوں کی طرح بریکار خواہشات کے سوا انہیں وليس صلواتهم من دون القيام کچھ علم نہیں اور ان کی نمازیں محض اُٹھک بیٹھک والقعود۔ما بقى لهم مس ہیں۔شریعت کے پیچیدہ مسائل سے انہیں کوئی اے کے بمعضلات الشريعة۔ولا دخل مس نہیں۔اور نہ ہی طریقت کی باریکیوں میں في دقائق الطريقة۔ولو انہیں کوئی دخل ہے اگر تو ان کا تنقیدی جائزہ لے انتقدتهم لوجدت أكثر هم تو تو اکثر کور ذیل اور چو پاؤں جیسا پائے گا۔اور سقطا وكالأنعام۔وأيقنت أن تجھے یقین ہو جائے گا کہ ان کا وجود اسلام کے وجودهم إحدى المصائب على لئے مصائب میں سے ایک بہت بڑی مصیبت الإسلام۔تجدهم كزمع الناس ہے۔بے حیائی کی باتوں میں تو انہیں رذیل في الإفحاش۔و كالكلاب فی انسان اور دوسروں پر حملہ کرنے میں کتوں کی الهراش۔يحسبون كأنهم طرح پائے گا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بے يتركون سُدى۔وليس مع اليوم لگام چھوڑ دیئے جائیں گے اور آج کے بعد کل غدا۔ما كان على الحق الغشاء نہیں آئے گا۔حق پر تو پردہ نہیں ہے، لیکن ان ولكن تغلب عليهم الشقاء۔پر بدبختی غالب آ گئی ہے۔ان کے نزدیک عندهم تكفير الناس أمر هين۔لوگوں کو کا فر ٹھہرانا ایک معمولی بات ہے حالانکہ والاعتقاد بموت عيسى له وجه (حضرت) عیسی (علیہ السلام) کی وفات کا بين۔وتالله إنهم ما يقصدون عقیدہ اپنے اندر ایک بین ثبوت رکھتا ہے۔بخدا فتح الإسلام۔بل يقصدون فتحیہ اسلام کی فتح نہیں چاہتے بلکہ کمینے دشمنوں کی القسوس كالأعـداء الـلـام طرح پادریوں کی فتح چاہتے ہیں۔وہ ويـتـر كـون الـديـن فـي الظلام دين (اسلام) کو اندھیروں میں چھوڑتے ہیں