اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page iv
:= و وفقت لتأليف ذالك الكتاب۔فسأُرسله اليه بعد الطبع و تكميل الابواب۔فان اتى بالجواب الحسن و احسن الردّ عليه۔فاحرق کتبی و اقبل قدميه۔واعلق بذيله و اكيل الناس بكيله۔وها انا اقسم برب البرية۔أُؤَكِّدُ۔العهد لهذه الالية۔الهدی۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۶۴) اور مجھے اس کتاب کی تألیف کی توفیق بخشی گئی۔سوئیں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تکمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ رڈ کیا تو میں اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کے پاؤں نچوم لوں گا اور اس کے دامن سے چمٹ جاؤں گا اور پھر لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔اور لومیں پروردگار جہاں کی قسم کھا تا ہوں اور اس قسم سے عہد کو پختہ کرتا ہوں۔اس کتاب میں حضور نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی۔و اخفى ام له في البراعة يدطولى سيهزم فلا يُرى۔نبأ من الله الذى يعلم السر الهدى۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۵۴) آیا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل ہے؟ عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظر نہ آئے گا یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو نہاں درنہاں کو جاننے والا ہے۔علامہ رشید رضا الهدای“ کی اشاعت کے بعد تمہیں سال تک زندہ رہا مگر اسے 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "الهدى و التبصرة لمن يراى “ جیسی فصیح کتاب لکھنے کی توفیق نہ ملی۔الھدی کی تالیف ربیع الاول ۱۳۲۰ھ میں مکمل ہوئی اور ۱۲ جون ۱۹۰۲ء کو چھپ کر شائع ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "الهدى و التبصرة لمن يراى “ کے پہلے ۶۷ صفحات کا ترجمہ خود سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اردو زبان میں کر کے ایڈیشن اوّل