اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 16

الهدى و التبصرة لمن يرى 17 اردو ترجمہ أن يعم فتنهم هذه البلاد۔ورأیت ہیں اور ڈر پیدا ہوا کہ ان کا فتنہ ان شہروں میں أنهم يروننی بشزر عينيهم۔پھیل جائے گا۔اور میں نے دیکھا کہ وہ میری ويصفقون بيديهم۔ويأخذونني طرف حقارت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور كالتلعابة ويُجعجعون بی تالیاں بجاتے ہیں اور مجھے ایک کھلونا سمجھتے للدعابة۔ويجعلون کلام المنار ہیں۔اور ہنسی کھیل کے لئے مجھے محبوس کرتے كحيلة للتجهيل و التخطية ہیں اور منار کے کلام کو حیلہ بناتے ہیں میرے والاحتقار۔شمّرت تشمیر من لا جاہل بنانے اور خطا کا ر ٹھہرانے اور حقیر جاننے يألو جهادًا، ويضع فأسا في رأس میں تو پھر میں نے بھی ایک پورے مجاہد کی طرح من رمي الجندل عنادًا۔و بالذي كمر کس لی جو کلہاڑا مارتا ہے اُس شخص کے سر میں سبقت رحمته غضبه وقلت جودشمنی سے اس پر پتھر پھینکے۔قسم اُس کی جس کی رأفتـه عـضبه۔ما كنتُ أظن في رحمت اُس کے غضب پر بڑھ گئی ہے۔اور جس صـاحـب الـمـنـار إلا ظنّ الخير۔کی مہربانی نے اُس کی تلوار گند کر دی ہے۔مجھے وكنتُ أخال أنه قال ما قال صاحب منار کی نسبت نیک گمان تھا۔اور میرا من مصلحة لا من إرادة الضير۔خیال تھا کہ اس نے کسی مصلحت سے ایسا کہا نہ ولكن ظهر على بعد ذالك أنه ضرر دینے کے ارادے سے۔لیکن پیچھے پتا لگا ما كف اللسان كما هو من سير کہ اس نے زبان کو نہیں روکا جیسے کہ بزرگوں کی (١٨) الكرام والطبائع السعيدة۔بل عادت اور سعید طبیعتوں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ أصر على الازدراء في الجريدة اس نے اپنے اخبار میں تحقیر پر اصرار کیا۔فأكل الحاسدون حصيدة لسانه پس حاسدوں نے اُس کے منہ کے اُگلے كالعصيدة۔وتلقفوا قوله ہوئے زہر کو لذیذ کھانے کی طرح کھایا اور وجددوا الخصومة بعدما اُس کی بات کو قبول کیا اور ختم ہو جانے کے قطعوها كما هو من شيم بعد نئے سرے جھگڑا شروع کر دیا جیسے کہ