اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 145
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۴۵ اردو تر جمه واحد فكر العرمة وفكر الأمة؟ فکر اور امت کی فکر کیسے اکٹھی ہو سکتی ہے۔جو شخص ومن خر على دويل لن يفتح خس و خاشاک پر گر پڑے اس کے لئے سلطنت عليه باب الدولة۔يسألون کے دروازے کبھی کھولے نہیں جاتے۔وہ نوحہ اور الناس كالنائحات والنادبات تین کرنے والی عورتوں کی طرح لوگوں سے مانگتے وأضاعوا الـقـائـت فی فکر ہیں۔انہوں نے مختلف الانواع غذاؤں کے تصوّر الأقوات۔وترى بعضهم میں اپنی (موجود) قوت لایموت کو ضائع کر دیا يرهنون قبور آباء هم عند ان میں سے بعض تمہیں ایسے بھی نظر آئیں گے جو غرماء هم۔ليتصرفوا فيما اپنے آبا ؤ و اجداد کی قبریں اپنے قرض خواہوں کے وقف عليها وليأكلوا ما عُرض پاس رہن رکھتے ہیں تا کہ وہ ان قبروں کے اوقاف على أجداث كبراء هم۔وإن کو اپنے تصرف میں لائیں۔اور ان کے بڑوں کی قلت يا عافاك الله أحسبت قبروں پر جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اُن قبر أبيك شيئًا يُباع ويُشتری کی آمدنی کھائیں۔اگر تو انہیں کہے کہ اے بھلے يقول اسکت یا فضولی لا تعلم آدمی! کیا تو اپنے باپ کی قبر کو ایسی چیز سمجھتا ہے ما نعلم ونرى۔ويعدون إلى جس كى خرید وفروخت ہو سکتی ہے؟ تو وہ جواب میں ألف من كرامات أسلافهم۔وما کہے گا کہ اے باتونی چُپ رہ! جو ہم جانتے اور يخرج در من خلفهم من غير دیکھتے ہیں تم اُسے نہیں جان سکتے۔وہ اپنے اخلافهم۔يدورون بركوة اسلاف کی کرامات ہزار تک گنتے ہیں۔ان کے اعتضدوها۔وعصا اعتمدوها۔تھنوں میں سے دودھ کی بجائے وعدہ خلافی نکلتی وسبحة عدوها۔ولحى طولوها ہے۔وہ کشکول لٹکائے ،عصا تھامے ،تسبیح کے ومدوها۔وحُلل خضروها دانے گنتے ، داڑھیاں بڑھائے اور پھیلائے وبشرة نضروها۔كأنهم أبدال ہوئے۔سبز چولے پہنے اور چہروں کو چمکائے أو أقطاب۔ثم يظهر بعد برهة ہوئے پھرتے ہیں گویا وہ ابدال ہیں یا اقطاب۔مگر (۹۸)