اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 115

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۱۵ اردو ترجمہ أنهم كل ما يعلمون ويعملون مخلصوں میں سے۔اور میں نے یہ بھی دیکھا فهو منصبغ بالرياء۔وصدورهم کہ اُن کا ہر علم و عمل ریا کے رنگ میں رنگین ہے اور مظلمة كالليلة الليلاء۔فرجعت ان کے سینے شب دیجور کی طرح سیاہ ہیں۔پس مما ظننت مسترجعا۔وبذلتُ انا للہ پڑھتے ہوئے میں نے اپنے خیال سے رأيي متوجعا۔وأيقنت أن رجوع کر لیا۔اور بڑے دکھ کے ساتھ اپنی رائے فراستي أخطأت۔وان القضية تبدیل کرلی اور میں نے یقین کر لیا کہ میری انعکست۔إنهم قوم آثروا فراست نے غلطی کھائی اور معاملہ تو بالکل برعکس الدنيا الدنية۔وطلبوا الوجاهة تھا۔یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس حقیر دنیا کو واللهنيّة۔يرون المفاسد في فوقیت دی اور وجاہت اور نذرونیاز کے طلبگار (۸۲) الأمصار والموامي۔ثم يغضون ہوئے۔وہ آبادیوں اور ویرانوں میں مفاسد الابصار كالمتعامی وترامی دیکھتے ہیں پھر بھی وہ اپنی آنکھیں اندھا بننے الجرح إلى الفساد ولكن لا والوں کی طرح جھکا لیتے ہیں۔اور زخم بگڑ کر ناسور يرون الترامي۔ما أجابوا داعی بن چکا ہے لیکن وہ اس ناسور کو دیکھتے نہیں۔الله مع دعوى العينين آنکھیں رکھنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود انہوں ولأجابوا لودعوا إلى مرماتين نے اللہ کے داعی (فرستادہ ) کو قبول نہیں کیا۔لیکن لا يُفكرون في أنفسهم أي شيء اگر انہیں بکری کے دو پایوں کی طرف دعوت دی يفعلون للدين۔أخُلقوا لأكل جاتی تو وہ ضرور اسے قبول کر لیتے۔وہ اپنے دلوں الـمـطـائـب والتزيين؟ ولقد میں نہیں سوچتے کہ وہ دین کے لئے کیا کر رہے فسدت الأرض بفسادهم ہیں۔کیا وہ عمدہ کھانے کھانے اور زیب وزینت وشاع الطاعون في بلادهم کے لئے ہی پیدا کئے گئے ہیں۔ان کے فساد کی وجہ وإنه بلاء ما ترك غورا ولا سے ساری زمین برباد ہوگئی ہے۔اور ان کے نُشُزًا۔وإذا قصد بلدة فجعله علاقوں میں طاعون پھیل گئی ہے۔یہ (طاعون)